نجی یونیورسٹی میں طالبہ کے اقدام خودکشی کے کیس میں اہم پیش رفت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کے اقدام خودکشی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے طالبہ کے اقدام خودکشی کی تحقیقات کے دوران شبہ میں رکھے گئے نوجوان کو بے گناہ قرار دے دیا۔
طالبہ کے اقدام خودکشی پر تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ نجی یونیورسٹی کی طالبہ جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
لاہور کی نجی یونیورسٹی میں ڈی فارمیسی میں زیرتعلیم طالبہ کی خودکشی کی کوشش کے بعد یہ واقعہ سوشل میڈیا پرعوام کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ طالبہ کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور ریڑھ کی ہڈی کو بھی نقصان پہنچا تاہم ڈاکٹروں نے اس کی زندگی بچا لی۔
آج سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے 21 سالہ طالبہ فاطمہ کی خودکشی کی کوشش کے کیس میں شامل تفتیش کیے گئے نوجوان کو بے گناہ قرار دے دیا۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ اب تک اس واقعہ کی بیشتر تحقیقات ہو چکی ہے۔ یہ واقعہ مکمل طور پر ذاتی نوعیت کا ہے۔ طالبہ کے عمارت کی بالائی منزل سے کود جانے کے معاملے میں کسی دوسرے شخص کا ملوث ہونا ثابت نہیں ہوا۔
پولیس کے مطابق نوجوان کی واقعے میں کوئی ذمے داری یا غفلت ثابت نہیں ہوئی۔
طالبہ کے اقدام خودکشی کے بعد یونیورسٹی بند کر دی گئی تھی اور جنرل ہسپتال میں بچی کی زندگی بچانے کے لئے سینئیر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کا بورڈ بنایا گیا تھا۔ اس طالبہ کو دو دن کے بعد ہوش آیا۔
اس طالبہ کی یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگانے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر پھیل چکی ہے۔
طالبہ کے اقدام خودکشی پر کسی کے خلاف تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے عمارت کی تیسری منزل سے کود جانے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے کال ریکارڈ اور دیگر شواہد اکٹھے کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی حالت بہتر ہونے پر تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔
اس واقعے سے چند روز قبل اسی یونیورسٹی میں ایک طالب علم نے بھی چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان اویس کی خودکشی اور طالبہ کا اقدام خودکشی مختلف واقعات ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
اس واقعہ کے فوراً بعد یونی ورسٹی انتظامیہ نے اپنی تمام عمارتوں کے گھر چھت سے یا بالائی منزلوں سے گرنے والوں کو کوٹ لگنے سے بچانے کے لئے حفاظتی جال (نیٹ) نصب کر دیئے ہیں۔