افغان جنگ کوئی جہادنہیں تھا،وہ ایک سوپر پاور کی جنگ تھی،ہم کرایہ پرموجود رہے؛خواجہ آصف
افغانستان آزادی کے بعد پاکستان کو ریکگنائز کرن والاآخری ملک تھا،وزیر دفاع
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ ہم دو جنگوں میں فریق بنے جو افغانستان کی سرزمین پر لڑی گئی،ہم نے ان دو جنگوں میں اسلام یا مذہب کے لیے شرکت نہیں کی تھی۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان آخری ملک تھا پاکستان کو ریکگنائز کرنے والا جب ہم آزاد ہوئے تھے،اسی (80) کی دہائی میں ہمارا ان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن تھا،آزادی کے بعد انہوں نے دو دفعہ حملہ بھی کیا،آرمڈ اٹیک کیا انہوں نے یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی جہاد وغیرہ نہیں تھا،وہ ایک سوپر پاور کی جنگ تھی،ہم نے اپنا کری کلم تبدیل کر دیا،ہم نے ایک میڈ ان امریکہ جہاد لڑنا تھا،اس جہاد سے ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا، انہوں نے کہا کہ میں کوئی کہانی نہیں سنا رہا یہ تاریخ ہے،نائن الیون کا آج تک پتہ نہیں چلا کہ وہ کس نے کرایا تھا،دو دہائیاں ہم کرائے کے اوپر موجود رہے،ہم ابھی تک اپنی تاریخ کا انکار کر رہے ہیں،پاکستان میں کسی سیاستدان نے اپنے ماضی پر معذرت نہیں کی میں نے کی ہے،22 ، 23سال ہم افغانستان میں ملوث رہے،آج ہم وجوہات ڈھونڈتے ہیں کہ دہشتگردی کیوں ہو رہی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس مٹی کو اپنا اوریجن مانیں،کے کے عزیز کی کتاب ٹیکسٹ ہونی چاہیے،ان نسلوں نے وہ کتابیں نہیں پڑھی جو ہم نے پڑھی ہیں،مجھے اسلام کے کسی بھی مسلک سے کوئی اختلاف نہیں،میں کوئی اتنا پڑھا لکھا مسلمان نہیں،مجھے تھریٹس آئے، میرا فون بھرا ہوا ہے،مجھے سچ بولنا ہے بولوں گا جب ضرورت پڑی۔
وزیردفاع کا کہنا تھا کہ اختلافات ہوتے ہیں،دست و گریبان ہونا بھی زندگی کی علامت ہے،ایک چیز پر اتفاق ہونا چاہیے،وہ پاکستان کی سالمیت، ہم حالت جنگ میں ہیں،اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے،مذہبی منافرت ہمارے قومی کلچر کا حصہ نہیں تھی،مذہبی منافرت کو ہوا دی گئی،ہیمری کلنٹن کی تقریر چلائیں، یہاں پر کس طرح پاکستان کو استعمال کیا گیا،ٹشو پیپر بھی نہیں ٹوائلٹ پیپر کی طرح ہمیں استعمال کیا گیا،اس مٹی کو ہم اپنا سپانسر بنائیں،ہم کفالت کے لیے کبھی واشنگٹن چلے جاتے ہیں،کبھی ماسکو کبھی برطانیہ چلے جاتے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میرا دین وہ نہیں سکھاتا جو یہ دہشتگرد کر رہے ہیں،میرا دین تو محبت کا پیغام ہے،ہم نے یہاں مذہب کے بھی فرنچائز بنائے ہوئے ہیں،پاکستان ایسا ملک تھا،جہاں لوگ مل کے رہتے تھے،اللہ تعالیٰ نے ہمیں پھر موقع دیا ہے کہ ہم بنگال کے ساتھ نئی شرائط پر تعلقات استوار کریں،اس ملک کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ ملک کے مسائل حل کریں اور وسائل بھی بانٹیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ میں پہلی دفعہ افغانستان گیا میرے ساتھ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی تھی،افغانستان نے کہا ہم ان کو دور کہیں لے جاتے ہیں،اس کے لئے ہم سے 10 ارب مانگا گیا،وہ گارنٹی دینے کو تیار نہیں تھے،اس کے بعد جتنے بات چیت کے ادوار ہوئے ہیں،انہوں نے ہماری باتیں تسلیم کی ہیں لیکن گارنٹی دینےکو تیار نہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا افغانستان کی حکومت کو نہیں پتہ یا وہ اس میں ملوث ہیں،بھارت سامنے آکے مقابلہ نہیں کرسکتا ؟ افغانستان کے پلو میں چھپ کے ہم پہ وار کر رہا ہے،دونوں جنگیں ہماری نہیں تھیں۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ایک نقطے پر ہمار اتحاد ہونا چاہئے کہ ہندوستان ہمارے خلاف پراکسی وار لڑ رہا ہے،اس ایوان کو فعال بنائیں،اس ملک میں 78 سال میں بہت سے واقعات ہوئے،ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ بھی کر سکتے ہیں،اگر صوبوں میں وسائل ہیں تو صوبوں کا پہلا حق ہے،آپ سوچ بھی نہیں سکتے موجودہ حالات میں کتنے اتحاد کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امام بارگاہ پر سیکیورٹی تعینات نہ کرنے پر ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن معطل