یو ایچ ایس کے تحت سنٹرلائزڈ پالیسی کے ذریعے ریکارڈ 15 ہزار 827 داخلے مکمل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) نے صوبائی حکومت کی مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت پنجاب بھر میں ریکارڈ 15 ہزار 827 داخلے مکمل کر لیے۔ یہ یونیورسٹی کی تاریخ کے سب سے بڑے داخلے تھے۔
تقریباً پانچ ماہ پر محیط اس عمل کا اختتام بدھ کے روز بی ایس نرسنگ (مارننگ و ایوننگ) کی نویں جبکہ لیڈی ہیلتھ وزیٹر (ایل ایچ وی) ڈپلومہ پروگرام کی تیسری سلیکشن لسٹ جاری ہونے کے ساتھ ہوا جس کے بعد تعلیمی سال 26-2025 کے داخلے باضابطہ طور پر بند کر دیے گئے۔
رواں سال پہلی مرتبہ یو ایچ ایس کو نہ صرف سرکاری و نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز بلکہ بی ایس نرسنگ، پوسٹ آر این بی ایس سی نرسنگ، ایل ایچ وی ڈپلومہ اور 10 مختلف شعبہ جات کے پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ پروگرامز کیلئے بھی مرکزی داخلہ یونیورسٹی مقرر کیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر پنجاب کے 204 طبی، دندان سازی اور صحت کے تعلیمی اداروں میں 10 پروگرامز کیلئے داخلے کیے گئے۔
اس وسیع عمل کے دوران 50 ہزار 205 درخواستوں کو پراسیس کیا گیا اور ایک مربوط، شفاف نظام کے ذریعے خالصتاً میرٹ پر داخلے یقینی بنائے گئے۔ وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور نے اس اقدام کو طبی و صحت کی تعلیم میں ایک “انقلابی اصلاح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام میرٹ، شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنانے میں سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا یونیورسٹی پر اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت پورے صوبے میں یکساں میرٹ یقینی بنایا گیا۔ کئی کئی درخواستیں دینے کی مصیبت کو ختم کیا گیا اور تمام امیدواروں کو ایک ہی شفاف پلیٹ فارم کے ذریعے مساوی مواقع فراہم کیے گئے۔ اس سے نہ صرف طلبہ پر مالی اور انتظامی بوجھ کم ہوا بلکہ والدین کو بھی بڑی حد تک ریلیف ملا جو ماضی میں غیر ضروری مشکلات اور بعض نجی اداروں کی جانب سے غیر قانونی عطیات کے مطالبات کا سامنا کرتے تھے۔
وائس چانسلر کے مطابق نجی شعبے میں بھی اس پالیسی کے تحت سخت نگرانی کو یقینی بنایا گیا۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے مقررہ آخری تاریخ کے بعد نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجز کو خالی نشستیں پُر کرنے کا موقع دیا گیا،م تاہم یہ عمل یو ایچ ایس کی کڑی نگرانی میں مکمل کیا گیا تاکہ کسی بھی مرحلے پر میرٹ متاثر نہ ہو۔
انہوں نے داخلہ عمل کی شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پورا نظام ڈیجیٹل اور مکمل طور پر آڈٹ کے قابل ہے۔ درخواست جمع کرانے سے لے کر حتمی سلیکشن لسٹ تک ہر مرحلہ قابلِ مشاہدہ اور تصدیق شدہ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ شکایات نہ ہونے کے برابر رہیں اور وہ بھی محض معمولی تکنیکی نوعیت کی تھیں۔
پروفیسر احسن وحید راٹھور نے ڈائریکٹر ایڈمیشنز ڈاکٹر راحت عبد الرحمن اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے ایک “بہت بڑا اور پیچیدہ کام” قرار دیا جسے نہایت مہارت سے مکمل کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی داخلہ نظام کی کامیابی ماضی کے منتشر نظام سے ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے جس کے ذریعے نہ صرف معیار بندی اور شفافیت کو فروغ ملا بلکہ اعلیٰ تعلیم میں گورننس کا ایک نیا معیار بھی قائم ہوا ہے۔