افغانستان والے پاکستان سے ہارنےکے بعد کیوں روتے ہیں..?مثبت رویہ اپنانا ہوگا

Sep 08, 2025 | 22:43:PM
افغانستان والے پاکستان سے ہارنےکے بعد کیوں روتے ہیں..?مثبت رویہ اپنانا ہوگا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایس ایم عتیق شاہ بخاری)دنیائے کرکٹ میں افغانستان والے جس سے مرضی ہار جائیں پاکستان سے ہار کے بڑا روتے ہیں اسکی خاص وجہ جاننے کیلئے شوشل میڈیا پر لوگ طرح طرح کے کمنٹس دے رہے ہیں۔ پاکستانی عوام کی رائے کے مطابق افغانستان کے بیشتر سینئر کرکٹرز  پاکستان میں پیدا ہوئے اور  یہاں سے کرکٹ سیکھی  اور بہت سوں کے خاندان بھی پاکستان میں ہیں، لیکن پھر ایسا کیوں ہے کہ وہ پاکستان سے شکست کے بعد منفی تاثر چھوڑ جاتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک کےکھلاڑیوں کو ایک دوسرے  کیلئے سپورٹسمین شپ دیکھانی چاہئے اور دونوں ممالک کی عوام میں مثبت سوچ کو عام کرنا چاہئے۔
اس حوالے سے فیس بک پر ایک اکائونٹ ’’عجیب و غریب تاریخ ‘‘ پر افغانستان کے کھلاڑیوں اور افغانستان ٹیم کے مداحوں کی دو بڑے کرکٹ ایونٹس کے دوران رونے والی تصویر لگائی گئی ہے۔ اس رونے والی تصویر اور اسکے تناظر میں بڑے دلچسپ اور عجیب و غریب تبصرے بھی دیکھنے میں آئے۔کرکٹ ایک جنٹلمین سپورٹس ہے اور اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں برادر اسلامی ممالک کے کھلاڑیوں اور مداحواں کو اپنے رویوں میں مثبت خیالات کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے تاکہ دوسرے ممالک میں ایک اچھا پیغام پہنچایا جا سکے۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی کرکٹ کے میدان ’’ایشز   سیریز ‘‘کی صورت میں کھیل کی جنگ اپنی جگہ لیکن میچ کے اختتام پر  کھلاڑی اور میدان میں موجود شائقین کرکٹ جیتنے والی ٹیم کو مبارکباد اور مسکراہٹیں ضرور دیتے ہیں۔ تاکہ عوام میں مثبت شعور پیدا ہو اور کھیل کو کھیل سمجھ کر میدان میں اترا اور باہر جایا جائے۔

ایک صارف اعجاز خان نے لکھا ہےکہ"ٹرائی سیریز فائنل پر سادہ الفاظ میں تبصرہ"  کل جو ڈرامہ پاکستان سپنرز نے رقم کیا یقین کیجئے درد اور دکھ کیوجہ سے افغان ٹیم کے کھلاڑی اور مینجمنٹ رات کو نیند بھی نہیں کرسکے ہونگے۔جب پہلے اوور میں گرباز نے شاہین آفریدی کو چوکا جڑدیا تو افغان کوچ جوناتھن ٹروٹ نے ڈگ آؤٹ میں بیٹھے کھلاڑیوں کی طرف بڑے فخر سے مکمل بے فکری کا اشارہ کیا جس کا مطلب تھا کہ ہم آسانی سے پاکستان کو ہرانے والے ہیں، اسی طرح افغان کپتان راشد خان نے تو مکمل یونیفارم ہی چینچ کیا ہوا تھا حالانکہ ونڈے میں کبھی کبھار نمبر 6/7 والے یونیفارم تبدیل کرکے بیٹھ جاتے ہیں کیونکہ معمول کا کھیل ہوتا ہے جس میں 6/7 والے کا جلدی آنا حسب معمول تاخیر سے ہوتا ہے لیکن ٹی ٹؤنٹی میں ایسا میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا وہ بھی ایسے بڑے میچ میں۔۔۔ راشد کو الگ قسم کی خود اعتمادی حاصل ہوگئی تھی۔شاہین نے پہلے اوور میں گرباز کو دبوچا اور ابرار نے پانچویں اوور میں صدیق الله اتل کو گھیرا تو کوچ جوناتھن ٹروٹ کو ہلکی ہلکی کھجلی ہونا شروع ہوئی کیونکہ باقی اس کو پتہ تھا کہ "دباؤ جھیلنے والے تو میرے کھلاڑی ہے ہی نہیں" اور تو چھوڑیئے ٹروٹ خود کہاں پریشر برداشت کرسکتا ہے؟؟ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب 2013 میں دباؤ کیوجہ سے دورہ آسٹریلیا میں ایشز سیریز سے دستبردار ہوگیا تھا ‘‘۔

ندیم انجم عباسی نے اپنے کمنٹس میں لکھا ہے کہ ’’پاکستان الحمداللہ مسلم دنیا کا لیڈر ہے ، ہمیں ان کے رونے سے کوئی خوشی نہیں ہوتی ، کھیل میں جیت ہار ہوتی رہتی ہے جو  اچھا کھیلے گا وہ قابل تعریف ہے ۔۔۔ عصبیت اور علاقاعیت نے امت کو تباہ کیا ہے‘‘۔۔ محمد فاروق نے لکھا ہے کہ’’ استاد سے شاگرد کا ہار کر رونا سمجھ سے بالا تر ہے‘‘۔شہاب احمد کا کہنا ہے کہ ’’سپورٹمین شپ کا فقدان ہے نہ۔۔اور ہم سب مسلمان تو بھائی ہیں بھائی سے کیا مقابلہ اور کیا جیت و ہار‘‘۔ایک صارف افتخار عالم نے کمنٹس دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے خیال سے اسی طرح نہیں ہونا چاہیے یہ تو گیم ہے چاہے جو بھی تمہارا مقابل ہو اس میں جیت اور ہار دونوں ممکن ہے تو اپنے مقابل کے کے حساب سے تیار رہنا چاہیے اور باقی رہا پاکستان تو آج یہ جو بھی ہے پاکستان کے وجہ سے، پاکستان میں انہیں جگہ دی، انہیں بہت سے مواقع تعلیم کاروبار وغیرہ کی فراہم کی تو انہیں اسی طرح نفرت دکھانی نہیں چاہیے۔ایک صارف حامد شاہ مشوانی نے بہت اچھا کمنٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  ’’پاکستان افغانستان کے میچ میں افغان سپورٹرز کے پاسپورٹ چیک کریں تو نوے فیصد پاکستانی پاسپورٹ ہونگے۔ اپنے ملک کو سپورٹ کرنے کا حق بنتا ہے لیکن اتنی نفرت کیوں ہے؟‘‘

یہ بھی پڑھیں:رحیم یارخان , سیلاب میں پھنسے افراد کو بچانے کے دوران   کشتی الٹ گئی، 3 افراد جاں بحق