پاکستان بار کا ریٹائرڈ ججوں کو دوبارہ ملازمت نہ دینےکامطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام بار کونسلز کا اجلاس ہوا جس میں عدالتی امور اور وکلا سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا گیا۔
بار کونسلز کے اس اجلاس کی صدارت وائس چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی نے کی۔ اجلاس میں تمام صوبوں کی بار کونسلز کے وائس چیئرمینز اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
پاکستان بار کونسل کی طرف سے کہا گیا کہ وکلاء برادری نظام انصاف کا اہم ستون ہے۔ وکلاء کو درپیش دھمکیوں، تشدد اور ہراسانی جیسے سنگین مسائل کا تدارک ناگزیر ہے۔ صرف قانون سازی کافی نہیں اس کے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ وکلاء تحفظ ایکٹ کے نفاذ سے وکلاء بلا خوف اپنے فرائض انجام دے سکیں گے۔
اجلاس میں 26 ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی حمایت اور توثیق کی گئی۔
پاکستان بار نے کہا کہ وکلا 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔
پاکستان بار کو یقین ہے کہ آئینی عدالت کے قیام سے آئینی اور سیاسی مقدمات کے فیصلے موثر انداز میں ممکن ہو سکیں گے۔ اور آئینی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ پر عام سائلوں کے مقدمات کا بوجھ نمٹانے کے لئے ججوں کو زیادہ وقت مل سکے گا اور مقدمات کا بیک لاگ اور سائلوں کا طویل انتظار کم ہو گا۔
پاکستان بار نے اپنے اعلامیہ میں مطالبہ کیا کہ اعلی عدلیہ میں تمام خالی آسامیوں کو ایک ماہ کے اندر پر کیا جائے۔ ججز کے تبادلوں سے خالی ہونے والی آسامیاں پر متعلقہ ہائیکورٹ سے ہی تقرری کی جائے۔ خالی آسامی پر کوئی نئی تعیناتی نہ کی جائے۔
پاکستان بار نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ دفعہ 57 میں لفظ may کو Shall میں تبدیل کیا جائے تاکہ گرانٹ ان ایڈ کی ادائیگی یقینی ہو۔ عدلیہ کو بار کونسلز کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔ سوشل میڈیا پر وکلاء،بار نمائندگان یا ججز کی کردار کشی میں ملوث افراد کیخلاف فوری مقدمات درج کیے جائیں۔ ایسے افراد کا سائبر کرائم قوانین کے تحت جلد از جلد ٹرائل کیا جائے۔
اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ججز کی دوبارہ تعیناتی نہ کی جائے۔ لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973ء کی دفعہ 54 میں ترمیم کی جائے۔ وکلاء کے لائسنس معطلی کے اختیارات بار کونسلز کو دیئے جائیں۔
بار کونسلوں کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا۔ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی واقع ہوئی۔
پاکستان بار کونسل نے یہ بھی کہا کہ معرکہ حق میں پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کیا،معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستانی قوم اور حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔