ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچ گئیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت

Mar 08, 2026 | 11:37:AM
ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچ گئیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ویب ڈیسک )امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران ہلاک ہونے والے پہلے 6 امریکی فوجیوں کی میتیں ہفتے کو امریکا پہنچا دی گئیں، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی واپسی کی تقریب میں شرکت کی۔

امریکی ریاست ڈیلاویئر کے ڈوور ایئر فورس بیس پر فوجی طیارے کے ذریعے لائے گئے تابوتوں کو فوجی دستے نے قومی پرچم میں لپٹی حالت میں اتارا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ سفید ’یو ایس اے‘ کیپ پہنے موجود تھے اور ہر تابوت کے اتارے جانے پر سلامی پیش کی۔

 تقریب میں ٹرمپ کے ہمراہ خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین سمیت اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

یہ فوجی گزشتہ اتوار کو کویت میں ایک اہم امریکی کمانڈ سینٹر پر ایرانی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کے بعدگیس بھی مہنگی

ہلاک ہونے والے فوجیوں میں 5 مرد اور ایک خاتون شامل تھیں جن کی عمریں 20 سے 54 سال کے درمیان تھیں۔ یہ تمام فوجی ریزرو فورس کے رکن تھے جو فوجیوں کو خوراک، ایندھن، سازوسامان اور اسلحہ فراہم کرنے کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔

 امریکی فوجیوں کی میتوں کی واپسی کو ‘ڈیگنیفائیڈ ٹرانسفر’ کہا جاتا ہے جو نہایت سنجیدہ فوجی روایت ہے۔ اس عمل کے تحت تابوتوں کو ڈوور میں موجود مردہ خانے منتقل کیا جاتا ہے جہاں فوجی طبی ماہرین شناخت کا عمل مکمل کرنے کے بعد تدفین کی تیاری کرتے ہیں۔

 امریکی حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی اہلکاروں کو ایران کے ساتھ بڑھتے تنازع کے باعث بڑھتے خطرات کا سامنا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مزید حملوں کی صورت میں ایران کو ‘بہت سخت جواب’ دے گا اور نئے اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔