پاکستان مرکزی مسلم لیگ کےزیر اہتمام پری بجٹ سیمینار کا انعقاد

Jun 08, 2026 | 17:55:PM
پاکستان مرکزی مسلم لیگ کےزیر اہتمام پری بجٹ سیمینار کا انعقاد
کیپشن: پاکستان مرکزی مسلم لیگ کےزیر اہتمام پری بجٹ سیمینار کا انعقاد
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) پاکستان مرکزی مسلم لیگ شعبہ صنعت و تجارت کے زیر اہتمام ایک اہم پری بجٹ سیمینار کا انعقاد کیا گیاجس میں  پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنما چوہدری حمید الحسن گجر نے  ’’پری بجٹ قومی معاشی اعلامیہ 2026‘‘ پیش کیا جس میں عوامی ریلیف، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے 12 نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا۔

 سیمینار میں صدر لاہور چیمبر آف کامرس فہیم الرحمٰن سہگل،ایسں ایم اختر، عمر سلیم ڈاکٹر رضوان، شیخ عبدالمنان، عمر بٹ، عثمان ملک ،احسان الرحمٰن، مختلف تاجر ایسوسی ایشنز کے صدور، مارکیٹ صدور اور صنعت و تجارت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد نیک گجر، جنرل سیکرٹری لاہور چوہدری حمید الحسن گجر، صدر شعبہ تاجران حافظ اشفاق سمیت دیگر مرکزی و مقامی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں عوام، تاجر، صنعتکار، مزدور اور کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ حکومتی معاشی پالیسیاں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں، انہوں نے زور دیا کہ آنے والا قومی بجٹ حقیقی معنوں میں عوام دوست، کاروبار دوست اور ملکی خودمختاری کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
اس موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنما چوہدری حمید الحسن گجر نے “پری بجٹ قومی معاشی اعلامیہ 2026” پیش کیا جس میں عوامی ریلیف، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے 12 نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت مسلسل تیسرے سال بھی مہنگائی، بے روزگاری، صنعتی زوال اور زرعی بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے،مہنگی بجلی، ظالمانہ ٹیکسز، آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور معاشی بدانتظامی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اپنے 12 نکاتی قومی معاشی ایجنڈے میں درج ذیل مطالبات پیش کیے:
1۔ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیتے ہوئے کم آمدن ملازمین کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے، تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے جبکہ کم از کم اجرت 60 ہزار روپے مقرر کی جائے۔
2۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں فوری کمی، بجلی بلوں میں شامل ناجائز ٹیکسز کا خاتمہ اور آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کی جائے۔
3۔ سولر انرجی ایمرجنسی پروگرام نافذ کرتے ہوئے گھریلو و زرعی سولر سسٹمز پر مکمل ٹیکس چھوٹ، بلاسود قرضے اور نیٹ میٹرنگ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
4۔ کسانوں کو کھاد، بیج، زرعی ادویات اور زرعی آلات پر سبسڈی دی جائے جبکہ زرعی ٹیوب ویلز کے لیے سستی بجلی فراہم کی جائے۔
5۔ قومی معیشت کو آئی ایم ایف پر انحصار سے نکال کر مقامی صنعت، زراعت اور برآمدات کی بنیاد پر استوار کیا جائے۔
6۔ چھوٹے تاجروں اور صنعتوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج، آسان قرضے اور سادہ ٹیکس نظام متعارف کروایا جائے۔
7۔ حکمران طبقے کی شاہ خرچیوں، غیر ضروری مراعات اور سرکاری اخراجات میں فوری کمی کی جائے۔
8۔ ایف بی آر اور ٹیکس نظام میں ہنگامی اصلاحات کرتے ہوئے تاجروں اور صنعتکاروں کو ہراسانی، ناجائز جرمانوں اور مصنوعی ٹیکس نوٹسز سے تحفظ دیا جائے۔
9۔ نوجوانوں کے لیے روزگار ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے بلاسود قرضے، ٹیکنیکل و ڈیجیٹل اسکل پروگرام اور نئی صنعتوں کے قیام کے لیے خصوصی مراعات دی جائیں۔
10۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے قومی پرائس مانیٹرنگ سسٹم فعال کیا جائے اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
11۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو تین سال کے لیے مستحکم رکھا جائے، پیٹرولیم لیوی ٹیکس ختم کیا جائے اور پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔
12۔ قومی بجٹ کو حقیقی معنوں میں عوام دوست، کاروبار دوست اور خودمختار معاشی پالیسیوں کا آئینہ دار بنایا جائے۔
سیمینار کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے، عوام کو ریلیف دینے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔