مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے 15 نئے صوبے بنانے کی حمایت کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سسٹم کو کولیپس سے بچانے کیلئے نئے صوبے بنانے کی حمایت کر دی اور چار صوبوں کو تقسیم کر کے ملک میں 15 نئے صوبے بنانے کی حمایت کر دی۔
آج جمعہ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ بدین سے گھوٹکی تک جتنی بڑی آبادی ہے، اس پورے صوبہ کو کراچی میں بیٹھ کر نہیں چلایا جاسکتا۔
احسن اقبال نے کہا کہ رحیم یار خان سے اٹک تک پھیلے ہوئے پنجاب کو لاہور سے نہیں چلایا جاسکتا۔ اسی طرح ڈی آئی خان سے چترال خیبر پختونخوا کو پشاور سے نہیں چلاسکتے۔نہ ہی یہ ممکن ہے کہ بلوچستان کو پسنی سے ژوب، قلعہ سیف اللّٰہ سے کوئٹہ تک، کوئٹہ میں واقعہ ایک سیکریٹریٹ سے چلائیں۔ حل یہی ہے کہ 160 بااختیار ضلعی حکومتیں بنائی جائیں یا 15 صوبے بنادیے جائیں۔ ہمارے ہمسائے ملک میں 1947ء کے بعد سے درجن نئے صوبے بن چکے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ اس مرکزیت کے ساتھ جو آبادی کا دباؤ ہے، سسٹم اوور لوڈڈ ہے، انتظامی طور پر سسٹم میں توازن کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ متنازعہ بات نہیں کرنا چاہتا، سندھ اسمبلی کا استحقاق ہے وہ اپنی قرارداد پاس کرسکتی ہے۔ پاکستان کے عوام کو اچھی تعلیم، صحت، صفائی، صاف پانی چاہیے۔ یہ تمام ایشوز کسی سیاسی نعرے یا سیاسی جماعت کے مفاد سے بڑے ہیں۔ حل یہی ہے کہ 160 اختیار والی ضلعی حکومتیں بنادیں یا 15 صوبے بنادیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیئے: نیپال میں معجزہ ہو گیا، نو دن سے سرنگ میں پھنسے دو کارکن زندہ سلامت نکل آئے