پی ٹی آئی عوام کو اشتعال دلا کر ریاست کے سامنے کھڑا کرنا چاہتی ہے، شمائلہ رانا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) مسلم لیگ ن کی رہنما شمائلہ رانا نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی عوام کو اشتعال دلا کر ریاست کے سامنے کھڑا کرنا چاہتی ہے ۔
24نیوز ایچ ڈی کے مقبول شو گونج میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما شمائلہ رانا نے کہا، تحریک انصاف کے لوگ عوام کو اشتعال دلا کر ریاست کے سامنے کھڑا کرنا چاہتے ہیں
پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما شمائلہ رانا نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا یقین ہے کہ اپوزیشن نے کسی بھی معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تحریک انصاف میں اتنے دھڑے بن چکے ہیں کہ سمجھ نہیں آتا حکومت کس کی بات سنے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان کی سلمان اکرم راجہ کی علیمہ خان یا محمود خان اچکزئی کی یا پھر قومی مذاکراتی کمیٹی کی ؟اپوزیشن کو مذاکرات کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا،ان کی پارٹی میں اتنے بیانیے ہیں کہ یہ خود کنفیوز ہیں ضمنی الیکشن میں بھی یہ چیز دیکھنے میں آئی جہاں سے ان کی پوزیشن مضبوط تھی وہاں ان لوگوں نے اپنا نمائندہ کھڑا کیا اور جہاں سے کمزور پوزیشن تھی وہاں اپنے حمایت یافتہ لوگ کھڑے کر دیے لیکن سب جگہ سے ہار گئے۔بانی تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی کو بات کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے تو حکومت ان سے ہی بات کرے گی لیکن ہمیں ان پر اعتماد نہیں ہے ۔اپوزیشن کو سب سے پہلے مذاکرات کی دعوت کس نے دی تھی ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار،وزیر اعظم ،ایاز صادق سب نے ان کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن انکو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اختیار نہیں ہے تو تحریک انصاف کس کو بااختیار سمجھتی ہے یہ سب جانتے ہیں اور پھر ان کو ہی گالیاں دیتی ہے ان کے خلاف سوشل میڈیا کیمپیئن چلاتی ہے ،تحریک انصاف کے لوگ عوام کو اشتعال دلا کر ریاست کے سامنے کھڑا کرنا چاہتے ہیں ، شمائلہ رانا
پروگرام میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت کے پاس مذاکرات کا اختیار ہی نہیں ہے یہ غیر جمہوری رویہ ملک کے لیے خراب صورتحال پیدا کر رہا ہے
ہم سیاسی لوگ ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کی ایک ہی سوچ ہے کہ دہشت گردی ختم ہو،شوکت یوسفزئی
پشاور سے لاہور اور کراچی جانا کوئی انتشار کرنا ہوتا ہے ،عمران خان نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنا دی ہے تو پھر حکومت کیوں کنفیوز ہے کہ کس سے مذاکرات کرنے ہیں اصل بات یہ ہے کہ ان سے حکومت چل نہیں رہے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے قرض پر قرض لے رہے ہیں ان سے ملک چل نہیں رہا اس لیے ان پر پریشر ہے ،نا پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر ہے نا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ہے یہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف انتشاری ہے لیکن حکومت یہ بتائے کہ محمود خان اچکزئی جو لاہور جا رہے تھے انہوں نے کیا انتشار کیا تھا جو انہوں نے پکڑ دھکڑ شروع کر دی ۔
پروگرام میں شریک قومی مذاکراتی کمیٹی کے رکن محمود مولوی نے کہا کہ سب سے پہلے ہم نے مذاکرات کی بات کی ہے اس کے بعد سب جگہ سے یہ بات ہونے لگی ہے اب تو تحریک انصاف میں بہت سے لوگ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں تمام سیاسی جماعتیں مل کر بات چیت کریں اور معاملات حل کریں انہوں نے مزید کہا کہ اگر تحریک انصاف ایسے ہی آپریشن کی مخالفت کرتی رہی تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشکل ہو جائے گی۔