جنگ ستمبر:بھارت کے پاس اصغرخان کا وژن اورنورخان کاجنون نہیں تھا

اصغرخان نےپروفیشنل میرٹ کویقینی بنایا، میرٹ اورڈسپلن پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے

Sep 07, 2025 | 09:44:AM
جنگ ستمبر:بھارت کے پاس اصغرخان کا وژن اورنورخان کاجنون نہیں تھا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)ایئرمارشل (ر)اصغرخان کوبلاشُبہ”فادرآف دی پاکستان ایئرفورس“قرار دیا جا سکتا ہے۔

 بھارتی ایئرفورس کے ایک آفیسرسبرامینئم نے ایک پیپرلکھا تھا کہ 65ء کی جنگ میں انڈین ایئرفورس کے پاس وہ اثاثہ نہیں تھاجوپاکستان ایئرفورس کے پاس تھا،اس نے لکھا تھا کہ ہمارے پاس اصغر خان کا وژن اورایئرمارشل نور خان کاجنون نہیں تھایہی دونوں چیزیں فیصلہ کُن ثابت ہوئیں اورپاکستان ایئر فورس کو بھارتی فضائیہ پر برتری حاصل ہوئی،اصغرخان نے ایئرفورس میں پروفیشنل میرٹ کویقینی بنایاتھا،وہ سکواڈرن کمانڈرتک کاانتخاب خودمیرٹ پرکرتے تھے اورڈسپلن پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے،ان کے اقدامات سے ہمارے پائلٹس کامورال بہت بلندہوگیاتھا جس کاہمیں جنگ میں فائدہ ہوا،انکی جنگ کیلئے منصوبہ بندی بھی کمال کی تھی کہ اگرکسی طرح پاکستان ایئرفورس جنگ کے شروع میں ہی بھارتی فضائیہ پرکاری ضرب لگادے تووہ دوبارہ اُٹھنے کے قابل نہیں رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ایم ایم عالم کاپانچ جہازگرانے کاریکارڈمحض مُعجزہ نہیں تھا
ان کے بعد ایئرمارشل نورخان نے ایئرفورس کی کمان سنبھالی،وہ جنگ سے صرف 44دن قبل آئے تھے اورتقریباً6 سال ایئرفورس سے باہررہے تھے لیکن ان کا کمال تھا کہ انہوں نے بہت جلد سارے معاملات پرعبور حاصل کرلیا تھا،نورخان کا دماغ بہت تیزکام کرتا تھا اور قوّت فیصلہ بھی بہت تیز تھی،اگر ہم نورخان اوراس وقت کے بھارتی ایئرچیف ارجن سنگھ کاموازنہ کریں تونورخان زیادہ ڈائنامک تھےیہی فرق جنگ میں نظر آیا،ارجن سنگھ نے کوئی کمال نہیں دکھایاتھالیکن بھارت نے اس کے باوجود ارجن سنگھ کو مارشل آف دی ایئرفورس کے اعزاز سے نوازا،اس کی خدمات نورخان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھیں۔