مغربی بنگال میں الیکشن کے بعد جھڑپیں، 4ہلاک

May 07, 2026 | 09:20:AM
مغربی بنگال میں الیکشن کے بعد جھڑپیں، 4ہلاک
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتخابی کامیابی کے بعد سیاسی ہنگاموں میں کم از کم 4 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی نے مشرقی ریاست مغربی بنگال میں پہلی بار تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 294 رکنی اسمبلی میں 206 نشستیں جیت لیں۔

تقریباً 10 کروڑ آبادی والی اس اہم ریاست کے انتخابی نتائج منگل کو جاری کیے گئے۔

مغربی بنگال پر 2011 سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکمران تھی، وزیر اعظم مودی کی سخت ناقد سمجھی جانیوالی ممتا بنرجی خود بھی اپنی نشست ہار گئی ہیں۔

 ممتا بنرجی نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں، انہوں نے بی جے پی کی کامیابی کو ’غیر اخلاقی فتح‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 100 سے زائد نشستیں لوٹی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں:ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر آج جواب دیئے جانے کا امکان

پولیس کے مطابق نتائج کے اعلان کے بعد ریاستی دارالحکومت کولکتہ سمیت مختلف اضلاع میں مخالف سیاسی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس کے 2 کارکن مارے گئے، جبکہ ٹی ایم سی نے بھی اپنے 2 کارکنوں کے قتل کا دعویٰ کیا ہے۔

بی جے پی کے ریاستی رہنما سمک بھٹاچاریہ کے مطابق انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد پیر کو ان کے 2 کارکن قتل کر دیے گئے۔

دوسری جانب ٹی ایم سی کے ترجمان نریندرناتھ چکرورتی نے الزام لگایا کہ ریاست بھر میں ان کی جماعت کے دفاتر پر حملے کیے گئے۔

 ان کے مطابق ہلاک ہونے والے 2 افراد نچلی سطح کے سیاسی کارکن تھے۔