پاکستانی باشندہ امریکہ میں ٹرمپ کے قتل کی سازش کا مجرم قرار پا گیا

Mar 07, 2026 | 21:43:PM
پاکستانی باشندہ امریکہ میں ٹرمپ کے قتل کی سازش کا مجرم قرار پا گیا
کیپشن: پاکستانی باشندہ آصف مرچنٹ، جس کے ایران  کے پاسداران سے مبینہ تعلقات ہیں، 16 ستمبر 2024 کو نیویارک، امریکہ میں ایک کمرہ عدالت میں، امریکی سیاست دانوں  اور سرکاری اہلکاروں کو قتل کرنے کی ناکام سازش کے سلسلے میں الزامات کے تحت پیش ہوا۔ یہ فائل فوٹو گوگل کی مدد سے سرچ کی گئی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  نیویارک میں کل 6 مارچ کو   ایک پاکستانی شخص کو جمعہ کے روز ایران کے حکم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم امریکی سیاست دانوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ ایک انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نے واشنگٹن میں جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے خبر دی کہ  مجرم قرار دیئے جانے والے پاکستانی باشندے کا نام آصف مرچنٹ ہے۔
آصف مرچنٹ پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے  3 جنوری 2020 کو  ایرانی فوج کے  کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کا انتقام لینے کے لئے  بدلے میں  2024 کے دوران ٹرمپ اور دیگر افراد  کو نشانہ بنانے کے منصوبے میں امریکہ میں لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ واقعہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر کی حیثیت سے پہلی ٹرم کے دوران ہوا تھا۔  مقدمہ مکمل ہونے پر آصف مرچنٹ کو مجرم اب قرار دیا گیا ہے۔ 
وفاقی استغاثہ نے بتایا کہ 2024 کی سازش کے اہداف میں اس وقت کے صدر جو بائیڈن اور نکی ہیلی بھی شامل تھے، جو اس سال ریپبلکن صدارتی نامزدگی کے لیے ٹرمپ کے خلاف لڑے تھے۔
ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس نے کہا کہ ملزم آصف مرچنٹ ایرانی حکام کی طرف سے ہدایت کردہ "کرائے کا قتل"  اور "دہشت گردی کا ارتکاب کرنے کی کوشش" کا مرتکب ہوا.
نیو یارک سٹی بورو آف بروکلین میں مقدمے کی سماعت گزشتہ ہفتے شروع ہوئی۔ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کا حکم دینے سے چند دن پہلے یہ سماعت شروع کی گئی۔ ایک ہفتہ پہلے ایران پر ہونے والا حملہ اب پھیل کر  حالیہ کئی برسوں میں خطے کی سب سے بڑی جنگ بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  ایران میں اسرائیلی ائیرسٹرائیکس کی نئی لہر، اسرائیل پر دوپہر تک چھ میزائل حملے، ٹرمپ کی آج شدید حملوں کی وارننگ 
مجرم آصف مرچنٹ نے ایران کی  پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ سازش میں شامل ہونے کا اعتراف کیا لیکن گواہی دی کہ اس نے تہران میں اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے ایسا عمل نہ  چاہتے ہوئے کیا۔
آصف مرچنٹ نے کہا کہ اسے کبھی بھی کسی مخصوص شخص کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا لیکن اس کے ایرانی ہینڈلر نے ایرانی دارالحکومت تہران میں بات چیت کے دوران تین افراد کے نام بتائے تھے۔


آصف مرچنٹ امریکہ میں موجود تھا تو امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئی حملہ ہونے سے پہلے ہی اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس نے کہا کہ ایک شخص آصف مرچنٹ نے اپریل 2024 میں اپنے جرم کے پلاٹ میں مدد  حاصل کرنے کے لیے جن اشخاص سے رابطہ کیا ان میں سے ایک نے قانون نافذ کرنے والے ادارہ کو آصف کی سرگرمیوں کی  شکایت کر دی اور اس کے خلاف ایک خفیہ مخبر بن گیا۔ اس سال ہی مزید تفاصیل جمع ہونے کے بعد آصف  مرچنٹ کو گرفتار کیا گیا اور اس نے عدالت میں قصوروار نہ ہونے کا مؤقف اختیار کر لیا۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  پیرا PERA پٹرول چھپانے، مہنگا بیچنے والے پمپوں پر چھاپے مارے گی، لائسنس منسوخ ہوں گے

نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا، پاسداران انقلاب کا ایران میں ایک مرکزی کردار ہے اور یہ ایران سے باہر بھی مخصوص مقاصد کے لئے سرگرم ہیں۔ ایران میں پاسداران انقلاب کے اداروں میں فوجی اور اقتصادی طاقت کے ساتھ  ایک انٹیلی جنس نیٹ ورک شامل ہے۔

 تہران نے آصف مرچنٹ کے ذریعہ سازش کے  ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے ٹرمپ یا دیگر امریکیوں کو نشانہ بنایا تھا۔