امریکی اجازت سے روسی تیل کی خریداری، بھارت کی معاشی و خارجہ خودمختاری پر سوالیہ نشان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(احمد منصور)روس سے تیل کی خریداری کی عارضی امریکی اجازت نے بھارت کی نام نہاد خودمختار پالیسی کا پردہ چاک کردیا،امریکہ بھارت تجارتی معاہدے کے بعد نااہل مودی کو ملک کی معاشی خودمختاری داو پر لگانے کا ذمہ دار ٹہرایا جارہا ہے۔
کانگریسی رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ کیا اب امریکہ فیصلہ کرے گا کہ ہم نے کس سے تیل خریدنا ہے ؟
چٹا پور سے کانگریسی ایم ایل اے پریانک کھڑگے نے ایکس پر پیغام میں مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکی سیکرٹری خزانہ بھارت کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دینے والے کون ہوتے ہیں؟بھارتی حکومت ہر امریکی حکم پر کیوں جھک رہی ہے؟۔
پریانک کھڑگے نے مزید کہا کہ بی جے پی نے بھارتی خارجہ پالیسی کو مذاق بنا دیا،مودی حکومت کو کچھ حوصلہ دکھانے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق کے مطابق معرکہ حق میں شکست کے سٹریٹیجک اثرات عام بھارتی شہری تو محسوس کررہا ہے مگر بھارتی حکومتی حلقے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباو سے بچنے کیلئے بھارت کو اپنی توانائی پالیسی اور خودمختاری پر مسلسل سمجھوتہ کرنا پڑرہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مکران کوسٹل ہائی وے پر گاڑیوں میں خوفناک تصادم، 7افراد جاں بحق، 8زخمی
ماہر ین نے کہا کہ اگر بنیادی معاشی فیصلے بھی امریکہ کی منظوری سے مشروط ہیں تو یہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور خودمختاری پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے خلیجی جنگ کے پیش نظر بھارت کو 30 روز کیلئے روس سے تیل کی خریداری کی اجازت دی ہے