خوش ذائقہ آم کونسے صحت مند اجزا کے حامل ہیں ؟جانیے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )موسمِ گرما کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں آموں کی بہار آ جاتی ہے، خوش رنگ اور خوش ذائقہ آم کو دیکھتے ہی منہ میں پانی آ جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے ’’پھلوں کا بادشاہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم آم صرف اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے ہی مقبول نہیں بلکہ یہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتا ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق آم متعدد اہم غذائی اجزا سے بھرپور پھل ہے۔ ایک آم میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، فائبر، قدرتی شکر، وٹامن سی، وٹامن اے، وٹامن ای، وٹامن کے، فولیٹ، پوٹاشیم، میگنیشم اور کاپر سمیت کئی ضروری غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔
آم میں وٹامن سی کی وافر مقدار مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے، جسم میں آئرن جذب کرنے اور خلیات کی صحت برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن اے بینائی اور جسمانی دفاعی نظام کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آم میں کیلوریز کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔ تقریباً 165 گرام آم میں 99 کیلوریز موجود ہوتی ہیں، جبکہ کھانے سے قبل پھلوں کا استعمال زیادہ کھانے کی عادت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
اگرچہ آم میٹھا پھل ہے، تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اعتدال کے ساتھ اس کا استعمال ذیابیطس کے خطرے میں کمی سے منسلک ہوسکتا ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق آم اور دیگر تازہ پھلوں کا باقاعدہ استعمال بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم ذیابیطس کے مریضوں کو اس کے استعمال سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔
آم میں پولی فینولز نامی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس بھی موجود ہوتے ہیں جو جسم کو مضر مادوں اور تکسیدی تناؤ سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی خصوصیات مختلف دائمی بیماریوں اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرات میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔
دل کی صحت کے حوالے سے بھی آم مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم اور میگنیشم بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے اور خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ اینٹی آکسیڈنٹس کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ آم نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے، بینائی کو مضبوط رکھنے اور جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو فعال بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق آم ایک انتہائی مفید اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے، تاہم اس کے بہترین فوائد حاصل کرنے کے لیے اسے اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں :گلگت بلتستان میں پولنگ کا وقت ختم،ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع