سندھ اور پنجاب کے دریاؤں پر  اجنبی مچھلیاں قبضہ کر رہی ہیں

Jan 07, 2026 | 19:24:PM
سندھ اور پنجاب کے دریاؤں پر  اجنبی مچھلیاں قبضہ کر رہی ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)سندھ اور پنجاب کے دریاؤں پر  اجنبی مچھلیاں قبضہ کر رہی ہیں۔ یہ مچھلیاں ہمارے دریاؤں کی روایتی مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں۔

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دریائے سندھ اور پنجاب کے دوسرے دریاؤں میں اجنبی مچھلیوں کی بہت بڑی تعداد میں موجودگی ہمارے دریاؤں میں قدیم وقتوں سے  رہنے والی میں مقامی مچھلیوں کی بقا کے لئے خطرہ بن رہی ہیں۔ 

اب یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ دریاؤں میں غیر مقامی مچھلیوں نے تباہی مچا دی ہے۔ کئی حملہ آور نسلوں سے تعلق رکھنے والی یہ مچھلیاں عام طور پر گھروں کے ایکوریم  میں رکھنے کے لیے امپورٹ کی جاتی ہیں۔ 

اب تک 26 اقسام کی غیر ملکی مچھلیاں پاکستانی دریاؤں کے پانیوں میں پائی گئی ہیں جو  مقامی مچھلیوں کو کھا رہی ہیں۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ 26 بدیسی قسموں کی یہ مچھلیاں مقامی مچھلیوں کی خوراک اور ان کے رہنے کے علاقوں پر بھی قبضہ کر رہی ہیں۔ 

پاکستان میں دکھائی دی جا رہی نئی مچھلیوں میں سے بیشتر حملہ کر کے م۲قامی مچھلیوں کا شکار کرنے والی مچھلیاں ہیں۔  ان حملہ آور مچھلیوں میں لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والی ایمازون سیل فن کیٹ فش، پاکو اور سرخ پیٹ والی تلپیا مچھلیاں سرفہرست ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: جو بائیڈن کی پنشن نے سب کو حیران کر دیا، امریکی تاریخ کی سب سے بڑی رقم 

ماحول کے تحفظ کی انٹرنیشنل تنظیم ورلڈ وائیڈ فنڈ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرین اور آبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان غیر مقامی مچھلی سے پاکستان کے دریاؤں کا  ایکو سسٹم تباہ ہوجائے گا۔ ایکو سسٹم ایک پیچھیدہ نظام ہے جس میں زندگی کی بہت سی انواع ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہوئے پھلتی پھولتی ہیں۔ اگر ایکو سسٹم مین کوئی گڑبڑ ہو جائے تو اس سے اس ایکو سسٹم مین شامل تمام انواع جلد یا دیر سے متاثر ہوتی ہیں۔ 

اب اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ اجنبی مچھلیاں کس طرح  ہمارے دریاؤں میں پہنچیں؟ 

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ان مچھلیوں کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ انہیں ختم کرنا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔