جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی کے خلاف پھر نعرے، احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

Jan 07, 2026 | 15:28:PM
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی کے خلاف پھر نعرے، احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ویب ڈیسک )جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) دوبارہ قومی خبروں میں آئی جب یونیورسٹی کے کیمپس میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے مبینہ طور پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف نعرے لگائے۔ یہ واقعہ 5 جنوری کی رات پیش آیا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تنازعہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں تک پھیل گیا۔  طلبہ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے’ مودی شاہ کی قبر کھودیں گے جے این یو کی دھرتی پر۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، مظاہرہ طلبہ نے جنوری 2020 میں ہاسٹل حملے کے واقعہ کے خلاف کیا تھا۔ مظاہرے کے دوران لگائے گئے نعرے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے ذکر پر مشتمل تھے، جس سے تنازعہ پیدا ہوا۔

 یہ مظاہرہ اس وقت ہوا جب سپریم کورٹ نے 2 طالب علم عمر خالد اور شرجیل امام کو دہلی فسادات کے کیس میں ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہروں کے دوران 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔؎

 جے این یو نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اعلان کیا کہ وہ طلبہ کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کرے گی جو ’ناپسندیدہ نعرے‘ لگانے میں ملوث ہوں گے۔

’یونیورسٹیاں جدت اور نئے خیالات کے مراکز ہیں، انہیں نفرت کے تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ اظہار رائے کا حق بنیادی حق ہے۔ کسی بھی قسم کی تشدد، غیر قانونی رویہ یا ملک مخالف سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ طلبہ کے خلاف فوری معطلی، اخراج یا مستقل پابندی کی کارروائی کی جائے گی۔‘

یونیورسٹی ذرائع کے مطابق، قصوروار طلبہ کو فوری معطلی، اخراج، یا سنگین کیس میں مستقل خارج کیا جا سکتا ہے۔

 یونیورسٹی کی سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی۔ ویسٹنٹ کنج (نارتھ) کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو لکھے گئے خط میں بتایا گیا کہ پروگرام رات 10 بجے شروع ہوا اور اسے جے این یو اسٹوڈنٹس یونین (JNUSU) سے وابستہ طلبہ نے منظم کیا تھا۔

طلبہ کی فہرست میں ادیتی مشرا، گوپیکا بابو، سنیل یادو، دانش علی، سعد اعظمی، محبوب الٰہی، کنشک، پیضہ خان اور  شبھم شامل ہیں۔

 اب تک پولیس کسی ایف آئی آر کا اندراج نہیں کر سکی اور اس بابت قانونی رائے حاصل کر رہی ہے۔

 ے این یو اسٹوڈنٹس یونین  کی صدر ادیتی مشرا نے کہا کہ تمام نعرے نظریاتی نوعیت کے تھے، کسی پر ذاتی حملہ نہیں کیا گیا۔

اسٹوڈنٹس یونین نے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ یونیورسٹی کی بدنامی اور طلبہ پر دباؤ بڑھانے کی سازش ہے۔

انہوں نے میڈیا پر بھی تنقید کی کہ احتجاج کو غلط انداز میں پیش کر کے یونیورسٹی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔