پاکستان اور سعودی عرب کا ملکر ویکسین بنانے کا فیصلہ: بھارت کو منہ کی کھانا پڑی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پاکستان نے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی) میں شامل ویکسینز کی مشترکہ مقامی تیاری کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ فیصلہ ویکسین کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں اور خطے میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کے اجلاس کے دوران سامنے آئی، جہاں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اراکین کو ویکسین کی خریداری، درپیش مسائل اور مستقبل کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک اعلیٰ سطحی سعودی وفد 28 جنوری کو پاکستان کا دورہ کرے گا، جس کا مقصد ویکسین کی مشترکہ تیاری سے متعلق تعاون کو حتمی شکل دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں ای پی آئی ویکسینز زیادہ تر بھارتی کمپنیوں سے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے حاصل کرتا رہا ہے تاہم حالیہ دوطرفہ کشیدگی کے بعد بھارتی مینوفیکچررز نے پاکستان کے لیے ویکسین فراہم کرنے سے انکار کردیا، حتیٰ کہ تیسرے فریق کے ذریعے بھی سپلائی ممکن نہ رہی، جس سے ویکسین کی فراہمی متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:سیاسی پارہ ہائی،تحریک انصاف2 حصوں میں تقسیم
سید مصطفیٰ کمال کے مطابق پاکستان سالانہ تقریباً 350 سے 400 ملین ڈالر مالیت کی ویکسین خریدتا ہے، جس میں سے 51 فیصد اخراجات ملکی وسائل سے پورے کیے جاتے ہیں، جبکہ باقی رقم عالمی شراکت دار ادارے فراہم کرتے ہیں، ان اداروں میں گیوی، یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت، گیٹس فاؤنڈیشن اور روٹری انٹرنیشنل شامل ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ عالمی شراکت داروں کی جانب سے مالی معاونت 2030 تک جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے بعد پاکستان کو اپنا حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام مکمل طور پر خود فنڈ کرنا ہوگااسی پیش نظر حکومت نے نیشنل ویکسین پالیسی وزیر اعظم کو ارسال کردی ہے۔
پالیسی کے تحت نیشنل ویکسین الائنس قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شامل کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:مرغی کے گوشت کی قیمت میں بڑا اضافہ، انڈے بھی مہنگے
وزیر صحت کے مطابق پاکستان نے مختلف ممالک کے ساتھ شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لیا، جس کے بعد سعودی عرب کا انتخاب کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں ویکسین کی پیکجنگ اور فِنشنگ پاکستان میں ہوگی، جس کے بعد مرحلہ وار مکمل مقامی تیاری کی جانب پیش رفت کی جائے گی،پاکستان کو سالانہ تقریباً 140 ملین ای پی آئی ویکسین ڈوزز کی ضرورت ہوتی ہے۔