خیبرپختونخواحکومت افغانستان سے ملکر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے؛انجم عقیل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما انجم عقیل نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی بہت بڑھ چکی ہے،اس کے باوجود کے پی حکومت کا آپریشن کی مخالفت کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ کے پی کے کی حکومت افغانستان سے مل کر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے۔
پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما انجم عقیل کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں جو کل جماعتی کانفرنس ہوئی تھی اس کے مشترکہ علامیہ پر مسلم لیگ ن سمیت بہت سی سیاسی جماعتوں نے دستخط نہیں کیے تھے جس کا مطلب ہے کہ سب اس علامیہ سے متفق نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے پاکستان کا حصہ ہے جہاں پاکستان کے عوام کی حکومت ہے جو محب وطن لوگ ہیں لیکن اتنی دہشت گردی کے باوجود ایک صوبہ کہہ رہا ہے کہ میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن نہیں ہونے دونگاتو کیا یہ نہیں سمجھا جائے کے خیبرپختونخوا کی حکومت افغانستا ن کے ساتھ مل کر پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا یہ کہہ رہا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف آپریشن نہیں ہونے دیں گے،آپریشن کے باوجود وزیر اعلیٰ کا ایسے بیانات دینا عوام میں بدگمانی پھیلانا ہے حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت صوبے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کام کرے اور اپنی عوام کا تحفظ کرے اور دوسرے صوبوں میں بھی جو وہاں سے دہشت گرد آرہے ہیں ان کو روکے، تحریک انصاف کی یہ ہی روش جاری رہی تو معاملات خراب ہو سکتے ہیں۔
پروگرام میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قادر خان مندوخیل نے کہا کہ تحریک انصاف کے لوگ کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کو وزیر اعظم بلائیں اور بات کریں تو ان کا لیڈر اور قائد اپنی حکومت میں اپنی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت نہیں کرتے تو وہ کیا کریں گے ،کیا صوبائی حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ وفاق کے ساتھ مل کردہشت گردی کے خلاف کام کرے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام 12 سال سے آگ میں جل رہے ہیں،روٹی کپڑا اور مکان کی تو ہم بات ہی نہیں کر رہے ،وہاں لوگوں کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں لوگ آیت الکرسی پڑھ کر اپنے گھروں سے نکلتے ہیں کیا ان کو اپنے لوگوں پر ترس نہیں آتا جو علاج ،تعلیم اور روزگار کے لیے کراچی آتے ہیں ۔
رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی آدھی سے زیادہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر نہیں ہیں فنڈ نا ہونے کی وجہ سے بہت سی یونیورسٹیوں کے متعدد فیکللٹی بند ہوگئی ہیں۔
قادر خان مندوخیل نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی جو ہیں وہ علی امین گنڈا پور سے 2 ہاتھ آگے ہیں، یہ پنجابی اور پشتو فلموں کے ہیروز کی طرح میں تجھے نہیں چھوڑوں گا کرتے رہیں گے،یہ صرف باتیں کرتے رہیں گے اور آپریشن ہوتے رہیں گے،ان کی باتوں کا مقصد صرف لوگوں کو اکسانا ہے اور کچھ نہیں، تحریک انصاف کے سنجیدہ لوگوں کو سامنے آنا چاہیے ۔
پروگرام میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس میں ایک مشترکہ بیانیہ جاری کیا گیا جس میں آپریشن کی مخالفت کی گئی جس کا مطلب ہے کہ کے پی کے کی تمام سیاسی جماعتیں آپریشن کی مخالف اور بات چیت کی حامی ہیں،اب اگر وفاق اس سے الگ بات کرتا ہے تو اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔
فیصل چودھری کا مزید کہنا تھا کہ اگر ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزامات لگائے ہیں تو کے پی کے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کو اس کا جواب دینا چاہیے تھا،کل جماعتی کانفرنس میں اگر تمام جماعتیں یہ بات کرتی ہیں تو صرف تحریک انصاف کو ٹارگٹ کرنے کا کیا مطلب ہے ؟
یہ بھی پڑھیں:سول و پولیس افسران کے تقرر و تبادلے, شہزاد اقبال اوگرا میں ممبر گیس مقرر