حکومت مالک کی مرضی کے بغیر بھی جائیداد لے سکتی ہے لیکن سونے کے بدلے سونا دینا ہوگا:سپریم کورٹ

Jul 06, 2026 | 16:37:PM
حکومت مالک کی مرضی کے بغیر بھی جائیداد لے سکتی ہے لیکن سونے کے بدلے سونا دینا ہوگا:سپریم کورٹ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احتشام کیانی)سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت زمین کے مالک کی مرضی کے بغیر بھی جائیداد لے سکتی ہے لیکن اس کے لیے سونے کے بدلے سونا دینا ہوگا، نہ کہ تانبا، زمین کی قیمت کا تعین صرف سرکاری ریٹ سے نہیں بلکہ مارکیٹ ویلیو، ممکنہ استعمال اور مستقبل کی ترقی کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے اگر زمین کے حصول کے عمل میں تاخیر ہو تو اس دوران قیمتوں میں اضافے اور افراطِ زر کو بھی معاوضہ طے کرتے وقت مدنظر رکھا جائے۔

عدالت عظمیٰ نے ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد میں زمین لینا ریاست کا اختیار ہے،حکومت جائیداد کے مالک کی مرضی کے بغیر بھی جائیداد زبردستی لے سکتی ہے لیکن یہ حکومتی اختیار مطلق نہیں ۔

 سپریم کورٹ کے مطابق حکومت کے اس طاقت ور اختیار اور بنیادی حقوق کے مابین توازن رکھنے کے لیے آئین کا آرٹیکل 23اور 24اسے ریگولیٹ کرتا ہے ،جائیداد کے مالک کو سونے کے بدلے سونا دیا جائے نہ کہ سونے کے بدلے تانبا تھما دیا جائے۔

 

Supreme Court Decision
 عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ زمین کی قیمت کا تعین صرف سرکاری ریٹ سے نہیں بلکہ مارکیٹ ویلیو، ممکنہ استعمال اور مستقبل کی ترقی کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے اگر زمین کے حصول کے عمل میں تاخیر ہو تو اس دوران قیمتوں میں اضافے اور افراطِ زر کو بھی معاوضہ طے کرتے وقت مدنظر رکھا جائے۔

 یہ اہم فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا ہے۔

 سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ آرٹیکل 23کے تحت ہر شہری کو پاکستان کے کسی بھی حصے میں جائیداد حاصل کرنے ،رکھنے اور اُسے فروخت  یا منتقل کرنے کا حق حاصل ہے ، آرٹیکل 24کے تحت کسی بھی شخص کو قانون کے مطابق عمل در آمد کے علاوہ اس کی جائیداد سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ۔

 عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی شہری کی جائیداد کو عوامی مقصد کے علاوہ اور قانون کے اختیار کے بغیر زبردستی قبضے میں لیا جاسکتا  ہے،بطور آئینی حقوق کی محافظ عدالت کا کردار جائیداد کے حصول میں مناسب اور منصفانہ معاوضے کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے،جائیداد کے مالک کو کسی مالی بحران یا بدتر معاشی حالت میں نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جائیداد کو مالک کو ایسا معاوضہ ملنا چاہیے جو مفاد عامہ اور یا عوامی بھلائی کی خاطر اس پر مسلط کیے گئے نقصان سے کم نہ ہو، اراضی کے معاوضے کا اصول ’سونے کے بدلے سونا، تانبہ نہیں‘ ہونا چاہیے،متاثرہ مالک کو مکمل مالی انصاف ملنا ضروری ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے صوابی اراضی معاوضہ کیس میں خیبرپختونخوا حکومت کی تمام اپیلیں مسترد کر دیں، یہ کیس نہر منصوبے کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق تھا۔

اس کیس میں زمین مالکان نے سرکاری معاوضہ کم قرار دے کر عدالت سے رجوع کیا تھا،ریفرنس کورٹ نے شواہد کی بنیاد پر زمین مالکان کا معاوضہ بڑھا دیا تھا  جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے بھی ریفرنس کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا تاہم حکومت نے بڑھا ہوا معاوضہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے حکومت کے تمام اعتراضات مسترد کر دیے۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف سرکاری ریٹ پر معاوضہ مقرر نہیں کیا جا سکتا،زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے،زمین کی مستقبل کی اہمیت بھی معاوضے کے تعین میں شامل ہوگی، اراضی کے حصول میں تاخیر سے قیمتوں میں اضافے کو بھی دیکھا جائے گا، منصفانہ معاوضہ ہر متاثرہ شہری کا آئینی حق ہے،ریاست عوامی مفاد میں زمین حاصل کر سکتی ہے، مگر مناسب معاوضہ دینا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو درست قرار دے دیا،عدالت نے تمام سول اپیلیں خارج کرتے ہوئے زمین مالکان کے حق میں فیصلے برقرار رکھے ۔

یہ بھی پڑھیں : پی آئی اے نجکاری کے بعد پہلے ہی سال منافع بخش ادارہ بن جائے گا، عارف حبیب