جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس پاکستان کو خط، عدالتی امور چلانے پر تحفظات کا اظہار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(امانت گشکوری)سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو نیا خط تحریر کیا ہے،جس میں جسٹس منصور علی شاہ نے عدالتی امور چلانے پر تحفظات کا اظہارکیا ہے۔
خط میں جسٹس منصور علی شاہ کے چیف جسٹس پاکستان سے چھ سوالات پوچھے ہیں۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں بلایا جا رہا؟ 1980 رولز میں ترمیم بغیر فل کورٹ میٹنگ کے کیوں منظور ہوئی؟
جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں کہا ہے کہ اختلافی نوٹس جاری کرنے کی نئی پالیسی کیسے بنی،ججز کی آزادی دبائی جا رہی ہے یا آزادی دی جا رہی ہے؟
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کی درخواستیں فل کورٹ میں کیوں نہ لگیں؟ججز کی چھٹیوں سے متعلق نیا آرڈر کیوں جاری ہوا؟
جسٹس منصور علی شاہ نے کہاہے کہ امید ہے 8 ستمبر کے فل کورٹ اجلاس میں ان سوالات کے جوابات دیں گے،کیا آپ ججز کو آزادی دے رہے ہیں یا اس عدالت کو رجمنٹ فورس میں بدل رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان پر انڈہ پھینکنے والی خواتین کون تھیں ؟ بڑا انکشاف سامنے آگیا
خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس صاحب آپ کے بعد سینئر ترین جج ہونے کے ناطے خط لکھ رہا ہوں،میں نے آپکو متعدد خطوط لکھے لیکن آپکی طرف سے نہ تحریری نہ ہی زبانی جواب ملا،عوامی سطح پر آپ کا جواب ججز اور عوام کو اعتماد دے گا،آپ کا جواب یقین دلائے گا آپ کی ریفارمز شفاف اور آئین کیمطابق ہیں،یہ نہ سمجھیں یہ کوئی ذاتی متاثرہ یا رنجیدہ شخص کا خط ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آپ کے دور میں سب سے زیادہ 3956مقدمات میں نے نمٹائے،آپ کے دور میں 35 رپورٹٹد فیصلے تحریر کر چکا ہوں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2024 سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا ایک بھی باضابطہ اجلاس نہیں ہوا،بنچز بغیر مشاورت کے تشکیل دیئے جا رہے ہیں،میں ایک ذمہ دار کے طور پر آپ کو خط لکھ رہا ہوں،یکطرفہ بنچز کی تشکیل اور کاز لسٹ جاری ہورہی ہے،ججز روسٹر بغیر مشاورت کے دستخط کیلئے بھیجے جاتے ہیں،سینئر ججز کو دو رکنی جبکہ جونئیر ججز کو تین رکنی بنچز کیوں دیئے جا رہے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ قومی اہمیت کے مقدمات سینئر ججز کے سامنے کیوں مقرر نہیں کیے جا رہے، سینئر ججز کو کنٹرول کرنے کیلئے نظرانداز کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان پر انڈہ پھینکنے کے واقعے پر بشریٰ بی بی کی بہن کا ردعمل بھی آ گیا