یوکرین کے حملوں کے باعث روس کی ریفائننگ صلاحیت کو شدید دھچکا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)یوکرین کے حملوں کے باعث روس کی ریفائننگ صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا ہے، ریفائننگ صلاحیت پانچویں حصے تک گرگئی۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ یوکرین نے 28 اگست کو بحیرہ اسود میں روسی جہاز بویان ایم کو ڈرون سے نشانہ بنایا، یوکرین کی جانب سے روس کی سامارا اورکراسنوڈار ریفائنریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، حملوں نے روس کی ریفائننگ صلاحیت کو اچھا خاصہ نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس گاہک بچانے کیلئے خام تیل رعایت پر بیچنے پر مجبور ہے، حالیہ عرصے میں روس سے تیل خریدنے پر صدر ٹرمپ بھارت پر بھی بھاری ٹیرف عائد کرچکے ہیں۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ روس کی جانب سے بھی یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملے جاری ہیں، یوکرینی حکام کا دعویٰ ہے کہ روس ممکنہ طور پر پوکروفسک شہر پر دوبارہ حملے کی تیاری کررہا ہے۔
دوسری جانب روسی فوج کا دعویٰ ہے کہ مارچ سے اب تک یوکرین کے 3500 مربع کلومیٹر علاقہ اور 149 علاقے قبضے میں لیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:روسی تیل چھوڑیں، چین پر دباؤ بڑھائیں:ٹرمپ کا یورپ کو دوٹوک پیغام
تاہم امریکی تھنک ٹینک آئی ایس ڈبلیو نے روسی دعوے مسترد کردیے ہیں، آئی ایس ڈبلیو کے مطابق روسی قبضے کا اصل علاقہ 2346 مربع کلومیٹر اور 130 بستیاں ہیں، جولائی میں روس نے صرف 445 اور اگست میں 500 کلومیٹر پر قبضہ کیا ہے۔
خبرایجنسی نے بتایا کہ روسی وزیردفاع کا دعویٰ ہے کہ رواں سال ماہانہ 600 سے 700 کلومیٹرعلاقہ قبضے میں لیا گیا، یوکرین کے ڈس انفارمیشن سینٹر کے سربراہ نے بھی روسی دعویٰ مسترد کردیا۔