صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال اور سیکرٹری لاء کی ایڈووکیٹ جنرل آفس آمد
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف)ایڈوکیٹ جنرل آفس پنجاب میں صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال کی زیر صدارت لاء افسران کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب محمد امجد پرویز اور لاء افسران کی ایک سالہ کارکردگی کو سراہا گیا ۔
صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال کی زیر صدارت اجلاس میں سیکرٹری قانون اور لاء افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران صوبائی وزیر قانون کو ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور ان کی ٹیم کی مجموعی کارکردگی سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر قانون نے ایڈوکیٹ جنرل محمد امجد پرویز اور لاء افسران کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ریکارڈ تعداد میں مقدمات کے فیصلے پنجاب حکومت کے حق میں آئے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس میں ہونے والے اجلاس میں لاء افسران کی مجموعی کارکردگی کو ایک جامع رپورٹ کی صورت میں مرتب کر کے وزیر قانون رانا محمد اقبال کو آگاہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران قانونی مقدمات میں مؤثر پیروی کے نتیجے میں پنجاب حکومت کو ریونیو کی مد میں 4 کھرب 67 ارب روپے سے زائد کا مالی فائدہ ہوا۔ اسی عرصے میں سرکاری زمینوں کے مقدمات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 80 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی واگزار کروائی گئی۔معدنیات، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور دیگر سرکاری محکموں سے متعلق اہم مقدمات میں کامیابی کے باعث حکومت کو نمایاں مالی فوائد حاصل ہوئے۔ اسی طرح سپریم کورٹ آف پاکستان اور لاہور ہائی کورٹ میں ایک سال کے دوران حکومت پنجاب سے متعلق مجموعی طور پر 77 ہزار 219 مقدمات نمٹائے گئے۔
اایڈوکیٹ جنرل آفس کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق دفتر کے بجٹ اخراجات میں کفایت شعاری اختیار کرتے ہوئے 20 کروڑ روپے کی بچت بھی کی گئی۔ مزید یہ کہ حکومت کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلوں کے خلاف متعلقہ محکموں کی جانب سے بروقت اپیلیں دائر کی گئیں تاکہ سرکاری مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق ایڈوکیٹ جنرل آفس کے ہر لاء افسر لاہور ہائی کورٹ میں روزانہ اوسطاً 30 سے 40 مقدمات میں پیش ہوتا ہے جبکہ مجموعی طور پر ہر لاء افسر تقریباً 1500 سرکاری مقدمات نمٹانے میں کردار ادا کرتا ہے۔مزید بتایا گیا کہ گندم اور چینی پالیسی سے متعلق اہم مقدمات میں بھی لاہور ہائی کورٹ کے روبرو پنجاب حکومت کے مؤقف کا کامیاب دفاع کیا گیا۔
کارکردگی رپورٹ کے مطابق بار اور بنچ کے درمیان بہتر روابط کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے گئے جن کے تحت صوبے کے 36 اضلاع میں وکلاء کی بار ایسوسی ایشنز کے غیر متنازع انتخابات کروائے گئے۔ اس کے علاوہ قانون کے طالب علموں کو پیشہ ورانہ تربیت دینے کے لیے انٹرنشپ پروگرام شروع کیا گیا اور انٹرنشپ مکمل کرنے والے طلبہ کو سرٹیفکیٹس بھی دیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سمیت مختلف اعلیٰ حکام نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب محمد امجد پرویز اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔وزیر قانون رانا محمد اقبال نے اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل محمد امجد پرویز اور لاء افسران کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ قانونی محاذ پر حکومت کے مؤقف کے مؤثر دفاع اور اہم مقدمات میں کامیابی صوبائی حکومت کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایڈوکیٹ جنرل آفس آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ سرکاری مفادات کا تحفظ یقینی بناتا رہے گا۔
رانا محمد اقبال نے کہا کہ سرکاری زمینوں اور ترقیاتی منصوبوں کے خلاف جاری درجنوں حکمِ امتناعی بھی ختم کروائے گئے، جس سے سرکاری منصوبوں کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹیں دور ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیچیدہ آئینی اور انتظامی نوعیت کے مقدمات میں بھی حکومت کو مؤثر قانونی معاونت فراہم کی گئی۔
وزیر قانون کے مطابق ایڈوکیٹ جنرل محمد امجد پرویز کی قیادت میں لاء افسران اور ان کی ٹیم پوری طرح متحرک اور فعال رہی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں ایڈوکیٹ جنرل کا مؤثر ، پراعتماد اور متوازن انداز میں دلائل حکومت کے مؤقف کو مضبوط بنانے میں مؤثر ثابت ہوئے ،رانا محمد اقبال نے مزید کہا کہ محمد امجد پرویز نے بطور ایڈوکیٹ جنرل اپنے ابتدائی ایک سال میں صوبائی حکومت کے قانونی محاذ پر مضبوط بنیاد رکھ دی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
اجلاس میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب محمد امجد پرویز نے بھی لاء افسران کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ حکومت کے مؤقف کا مؤثر دفاع ٹیم ورک کے ذریعے ہی ممکن ہوا ہے۔ اجلاس میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل محمد نواز چوہدری ، خالدہ پروین ، خواجہ محسن عباس ،حافظ خواجہ لطیف احمد ، ناصر چوہان ، اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل عثمان خان ، وقاص عمر سیال ، حافظ ظہیر ناصر ، محمد فرخ خان لودھی سمیت لاء افسران بھی موجود تھے.
یہ بھی پڑھیں : بھارتی فضائیہ کا سخوئی ایس یو 30 جنگی طیارہ لاپتہ ہوگیا