کے پی میں کوئی نیا آپریشن نہیں کیا جا رہا ہے:شہلا رضا
خیبر پختونخوا میں تو انٹیلی جنس بیس آپریشن پہلے سے ہی ہو رہے ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنماشہلا رضا نے کہا کہ سہیل آفریدی ایسے ہی بیانات دیتے رہتے ہیں، خیبر پختونخوا میں تو انٹیلی جنس بیس آپریشن پہلے سے ہی ہو رہے ہیں، کوئی نیا آپریشن نہیں کیا جارہا۔
پروگرام ’’گونج ‘‘مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا کہ پاکستان میں ایسے بہت سے لوگ اور گروہ ہیں جو پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں لیکن وہ پاکستان کے آئین کو مانتے ہیں، ٹی ٹی پی آئین پاکستان کو نہیں مانتی اب گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کا کونسیپٹ ختم ہو چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس لیے سب کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کسی بھی آپریشن پر وفاقی وزراء کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہئے اور نا ہی خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو ایسے بیانات دینے چاہئے بلکہ نیشنل اسمبلی اور کے پی اسمبلی میں ان کیمرہ سیشن بلانے چاہئیں اور اپنے لوگوں کوان حالات سے آگاہ کرنا چاہیے ۔
شہلا رضا نے سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں کوئی وزیر اعلیٰ کیا ایک عام شخص بھی سیاسی ایکٹیویٹی کے لیے آسکتا ہے سہیل آفریدی اپنا کراچی کا پروگرام سندھ حکومت کو دے دیں تو ہم ہر ممکن تعاون کریں گے۔
پروگرام میں شامل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ تحریک انصا ف آپریشن کی مخالفت کر رہی ہے جب کہ تحریک انصاف کے دور میں دہشت گردوں کو واپس لاکر یہاں بسایا گیاوزیر اعظم بڑے دل کے انسان ہیں، وزیر اعظم پورے پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ، وہ تمام صوبوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں یہ قومی معاملہ ہے، اس کے مطابق کوئی نا مناسب گفتگو کسی غیر مناسب پلیٹ فارم پر نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کو پنجاب اور سندھ کے دورے کے بجائے اپنے صوبے پر توجہ دینی چاہیے۔
پروگرام میں شریک میں شامل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا ہے کہ کوئی ایسا آپریشن نہیں ہونا چاہیے آپریشن میں صرف دہشتگرد ہی نہیں معصوم لوگ بھی مارے جاتے ہیں ۔
ملک کے لیے آپریشن ہونے چاہیے لیکن ایسے وزیر اعظم کے ساتھ کیسے بیٹھ کر بات ہو سکتی ہے جب وہ سہیل آفریدی کو ملاقات کا وقت بھی نہیں دیتےہوں ،آپ ہمارے کوئی مطالبات پورے نہیں کر رہے تو پھر ہمارے پاس احتجاج کے علاوہ کونسا راستہ باقی رہ جاتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں :دبئی پولیس نے جعلی ورک ویزا اسکیم کے متعلق وارننگ جاری کر دی