انصاف کی نئی سمت — چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جدوجہد

تحریر؛ ملک محمد اشرف

Sep 04, 2025 | 20:26:PM
انصاف کی نئی سمت — چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جدوجہد
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

لاہور ہائیکورٹ ہمیشہ سے پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک مرکزی کردار رکھتی ہے  مگر موجودہ دور میں چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے جس جرات اور بصیرت کے ساتھ لاپتہ اور مغوی افراد کے کیسز کو سنبھالا ہے، وہ نہ صرف ان کی شخصیت کا آئینہ دار ہے بلکہ عدلیہ کے وقار اور عوامی اعتماد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

کئی خاندان ایسے تھے جو برسوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے تھے،کچھ کی امیدیں ٹوٹ چکی تھیں اور کچھ مایوسی کی اندھیروں میں ڈوب گئے تھے لیکن چیف جسٹس عالیہ نیلم کے براہِ راست احکامات نے ان خاندانوں کے دلوں میں ایک نئی کرن جگا دی،داتا دربار کی پروین بی بی کی مثال ہمارے سامنے ہے  جو اپنے بیٹے محمد عثمان کی تلاش میں در بدر پھرتی رہیں،ان کا دکھ ناقابلِ بیان تھا  لیکن لاہور ہائیکورٹ نے ان کی پکار کو سنا اور پولیس کو پابند کیا کہ وہ ہر ممکن تحقیق کرے اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
 یہ حقیقت ہے کہ عدالتی دباؤ اور نگرانی کے بغیر پولیس کی کارکردگی اکثر مایوس کن رہی ہے مگر چیف جسٹس عالیہ نیلم کے واضح اور سخت احکامات نے پولیس کو مجبور کیا کہ وہ مغویوں کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے، روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کرے اور عدالت کو جواب دہ بنے، اس عمل نے نہ صرف پولیس کو متحرک کیا بلکہ متاثرہ خاندانوں کو یہ اعتماد بھی دیا کہ اب ان کے کیسز کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

ان عدالتی اقدامات کے بعد ورثاء کی آنکھوں میں جو اطمینان جھلکتا ہے، وہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ عدالت نے ان کی زندگیوں میں کتنی بڑی تبدیلی پیدا کی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لبوں پر ایک ہی دعا ہے  "اللہ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کو سلامت رکھے" عوامی اعتماد کا یہ اظہار کسی بھی عدلیہ کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے،وکلاء برادری بھی ان اقدامات کو سراہ رہی ہے، وکلاء کا ماننا ہے کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی ہدایات نے ان خاندانوں کو امید دلائی ہے جو برسوں سے ناامیدی میں جی رہے تھے۔

یہ صرف عدالتی احکامات نہیں بلکہ ایک سماجی خدمت بھی ہے، جو معاشرے کے کمزور طبقوں کے لیے روشنی کا پیغام ہے ،چیف جسٹس مس  عالیہ نیلم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر عدلیہ چاہے تو فوری اور براہِ راست مداخلت کے ذریعے ایسے مسائل کو حل کر سکتی ہے جو برسوں سے جوں کے توں پڑے رہتے ہیں، ان کا وژن اور عملی اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ محض فائلوں اور کاغذوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی درد کو محسوس بھی کرتی ہے،انصاف کی اس نئی سمت میں  چیف جسٹس عالیہ نیلم کا کردار کسی چراغ کی مانند ہے جو اندھیروں میں جل رہا ہے اور بے بس عوام کے لیے روشنی فراہم کر رہا ہے،یہی کردار تاریخ میں انہیں ایک منفرد مقام عطا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں : پنجاب اسمبلی،1500 سالہ ولادت مصطفی ﷺ ،تاریخی موقع کا خیر مقدم کرنے کی قرارداد منظور