عمران خان کو گرفتاری سے قبل ملک سے باہر جانے کی پیشکش کی گئی: ملک عامر ڈوگر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)تحریک انصاف قومی اسمبلی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے انکشاف کیا کہ عمران خان کو گرفتاری سے ایک رات قبل یہ پیشکش کی گئی تھی کہ جہاز لاہور ایئر پورٹ پر کھڑا ہے آپ ملک سے باہر چلے جائیں لیکن عمران خان نے انکار کر دیا ۔
ملک عامر ڈوگر نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس دن عمران خان کو گرفتار کیا گیا ، اس رات بھی ان کے قریبی دوست بھیجے گئے تھے اور پیغام پہنچایا گیا کہ آپ کو صبح گرفتار کر لیا جائے گا آپ ملک سے باہر چلے جائیں، جہاز لاہور ایئر پورٹ پر کھڑا ہے ، آپ نے دنیا کے جس کونے میں جانا ہے آپ چلے جائیں، یہ آفر عمران خان اس وقت متعدد بار گرفتاری سے پہلے کی گئی، اس کے بعد بھی آج جانتے ہیں کہ 8 فروری سے پہلے بھی کئی بار یہ آفر ہوئی کہ ملک سے باہر چلے جائیں یا گھر میں نظر بند ہو جائیں اور پھر 8 فروری کے بعد بھی جب حکومت بن رہی تھی ان تین چار مہینوں میں بھی بڑے اعلیٰ پیمانے پر مذاکرات ہوئے ، لوگ جیل میں گئے اور باہر آئے ، ہمیشہ پیشکش رہی ہے اور 26 نومبر کی کہانی سب کو پتاہے ، وہ عمران خان ہے نہ وہ بھاگا اور نہ ہی بیمار ہوا، وہ آج بھی ڈٹ کر جیل میں کھڑاہے۔
یہ بھی پڑھیں: بارش برسانے والا نیاسسٹم ملک میں داخل،محکمہ موسمیات نے’’ طوفان‘‘ کی بھی پیشگوئی کر دی
ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ یہ 75 سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ ہے کہ کوئی سیاسی لیڈر جیل میں بیٹھ کر اپنے موقف پر دو سال سے زائد عرصہ سے قیدو بند سے مشکلات برداشت کر رہاہے ، ان کی صحت کو بھی خطرہ ہے، ان کا وزن بھی گر رہاہے، ان کے ساتھ ایسا سلوک جیل میں کیا جارہاہے وہ جنگی قیدیوں کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا، لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑاہے ، ایسی مثال پاکستان کی یا جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک بھی ہے تو مجھے بتا دیں، ورنہ لوگ لیٹ جاتے ہیں، این آر او لے جاتے ہیں، صندوق بھر کے سعودی ایئر لائن کے جہاز پر نکل جاتے ہیں، دس دس سال کے معاہدے کر کے چلے جاتے ہیں، جعلی اور جھوٹی میڈیکل رپورٹ بنا کر آنکھوں میں دھول جھونک کر چلے جاتے ہیں، جاتے ہیں تو بے شک حکومت تحریک انصاف کی ہوتی ہے تو اس میں سہولت کار وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت ہو تی ہے۔
رہنما پی ٹی آئی کا کہناتھا کہ عمران خان ڈٹا ہواہے ، عمران خان نظریے اور ایک تحریک کانام ہے ، اس کی پارٹی سے انتخابی نشان چھین لیں، ہزاروں مقدمات درج کر لیں، خصوصی نشستوں پر ڈاکہ مار لیں، ہمارے لوگوں کو نااہل کر دیں، ایسا جذبہ اور ایسی جرات کہیں دیکھنے کو نہیں ملے گی ، آج بھی ہم اپنے موقف پر کھڑے ہیں کہ 9 مئی کا جائزہ لیں، کمیشن بنائیں اور اس کے بعد جو قانون کے مطابق فیصلہ وہ کریں ۔