نورِ سحر میں " ٹریفک کے بڑھتے مسائل اور ان کا حل " روح پرور اور علمی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ ہمارے معاشرتی رویے نبی ﷺ کی تعلیمات سے دور ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ٹریفک مسائل، تجاوزات اور شہری بے ترتیبی میں اضافہ ہوا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع" ٹریفک کے بڑھتے مسائل اور ان کا حل "تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ ہمارے معاشرتی رویے نبی ﷺ کی تعلیمات سے دور ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ٹریفک مسائل، تجاوزات اور شہری بے ترتیبی میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے راستے تنگ کرنے سے سخت منع فرمایا اور ہر گلی کم از کم 10 فٹ ہونی چاہیے، جبکہ آج 20 فٹ چوڑی گلیوں پر بھی قبضہ اور ناجائز تعمیرات عام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی معمول بن گئی ہے، ون وے کی خلاف ورزی، اوور اسپیڈنگ اور نابالغ ڈرائیوروں کی بڑھتی کارروائیاں تشویش کا باعث ہیں، انہوں نے اسکولوں میں ٹریفک تربیت، میڈیا میں شعور بیداری اور تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
ناصر جاوید نے کہا کہ کسی بھی قوم کے تہذیبی معیار اور ڈسپلن کا ایک پیمانہ اس کا ٹریفک رویہ ہے، اور پاکستان میں ٹریفک کی موجودہ صورتحال معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتی ہے،انہوں نے شہریوں میں عوامی شعور کی کمی اور انفراسٹرکچر کی کمزوری کو بنیادی مسائل قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات کا تقریباً 75 فیصد حصہ ہیلمٹ نہ پہننے کی وجہ سے ہے، اور کم عمر ڈرائیونگ قوم کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر افراد کے خلاف ایف آئی آر نہیں کی جاتی تاکہ طلبہ کے تعلیمی کیریئر پر منفی اثر نہ پڑے، تاہم ہیلمٹ پہننے کے قانون پر عمل ہر شہری کے لیے ضروری ہے۔
پروفیسر حافظ ناصر محمود نے کہا کہ ریاست کے ساتھ عوام پر بھی فرض ہے کہ وہ راستے، سڑک اور ٹریفک کے بنیادی آداب کی پابندی کریں، انہوں نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے اطلاق میں حالات و مجبوریوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
مفتی ذیشان احمد حسان نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر عمل کرنا شریعت کے تحت ہر مسلمان پر واجب ہے، اور خلاف ورزی ’’گناہ" کے زمرے میں آتی ہے،انہوں نے سگنل توڑنا، ون وے کی خلاف ورزی، اوور اسپیڈنگ اور غلط پارکنگ کو واضح طور پر گناہ قرار دیا اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائیں اور احتیاط سے ڈرائیو کریں۔