اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف مظاہرے، گھر کے باہر گاڑی اور ٹینک نذرِ آتش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز)یروشلم میں وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسیوں اور یرغمالیوں کی رہائی پر ناکامی کے خلاف پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مظاہرے وسعت اور شدت پکڑتے جا رہے ہیں عوام کی بڑی تعداد نے آج اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے قریب شدید احتجاج کیا جس کے دوران وہاں ایک ٹینک کو بھی آگ لگادی گئی۔
ٹینک میں لگی آگ اتنی خوفناک تھی کہ اس نے ساتھ کھڑی اسرائیلی فوجی اہلکار کی ایک کار کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ٹینک اور گاڑی دونوں جل کر خاکستر ہوگئے۔
متاثرہ گاڑی کے مالک اسرائیلی فوجی اہلکار نے بتایا کہ غزہ میں جنگ کے دوران مسلسل خدمات انجام دے چکا ہوں اور یرغمالیوں کے خاندانوں کے ساتھ ہوں لیکن یہ آگ عوام اور فوج کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا رہی ہے۔
مظاہرے کے باعث اسرائیلی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قرب و جوار میں رہنے والے رہائشیوں کو اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا،مظاہرین نے کچرے کے ڈبوں اور ٹائروں کو بھی آگ لگا دی جس سے آگ قریبی گھروں اور گاڑیوں تک پھیل گئی تھی۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف یہ احتجاج "یومِ خلل” (Day of Disruption) کے موقع پر ہوا جس کا مقصد غزہ میں قید 48 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھاادھر اسرائیلی پولیس نے اس احتجاج کو "جرم اور دہشت گردی” قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات کسی بھی پرامن مظاہرے کا حصہ نہیں ہو سکتے۔
وزیرِانصاف یاریو لیوِن اور انتہاپسند وزیرِقومی سلامتی ایتمار بن گویر نے مظاہرین کو "آتش زن دہشت گرد” قرار دیتے ہوئے طاقت کے استعمال کا حکم دیااسی دوران حکومت نے حسبِ روایت اپنے اندرونی اختلافات کا ذمہ دار اٹارنی جنرل گالی بہاراو-میارا اور اعلیٰ عدالت کو ٹھہرانا شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا کی فوج نے یوکرین کیخلاف جنگ میں بہادری کی مثال پیدا کی:روسی صدر