پاکستان میں گاڑیوں کی ریکارڈ درآمد،ملکی آٹوموٹیوصنعت متاثرہونے کا خدشہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اشرف خان)پاکستان میں گاڑیوں کی ریکارڈ درآمدکے باعث ملکی آٹوموٹیوصنعت شدیدمتاثرہونے کا خدشہ پیداہوگیا۔
جولائی 2025 میں 4 ہزار سے زائد استعمال شدہ گاڑیاں کلیئر کی گئیں جن میں 600 قیمتی گاڑیاں شامل ہیں ان کی مالیت 50 ارب روپے سے زائد ہے۔
ذرائع کے مطابق جولائی میں پرسنل بیگیج اور متعلقہ سکیموں کے تحت استعمال شدہ گاڑیاں کلیئر کی گئیں جس میں3996 گاریاں پرسنل بیگیج سکیم،331 گاڑیاں گفٹ سکیم اور 96 گاڑیاں رہائش کی منتقلی سکیم کے تحت کلیئر کی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمتی لگژری گاڑیوں کے زیادہ تر درآمد کنندگان خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سے اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں درآمد کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری کالجز میں بی ایس پروگرام ختم ، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام شروع کرنیکا فیصلہ
سابق چیئرمین پاکستان ایسوسی ایشن آٹو موٹیو پارٹس اسیسریز مینوفیکچرز مشہود خان نے ایک ماہ میں 4 ہزار سے زائد استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کو مقامی انڈسٹری کے لئے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ماہ میں اگر 4 ہزار گاڑیاں درآمد ہوئیں تو یہ سالانہ 40 ہزار سے بھی تجاوز کرجائیں گی،پاکستان درآمدی بل میں اضافہ برداشت نہیں کرسکتا۔
مشہود خان کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی مسلسل درآمد ملکی معیشت کے لیے طویل المدتی نقصان ہے جس میں زرمبادلہ کا اخراج، مقامی روزگار کا خاتمہ اور ملکی مینوفیکچرنگ سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن میں کمی ہوگی،پاکستان میں آٹو سیکٹر براہ راست 3 لاکھ 30 ہزار افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔