ایرانی سپریم لیڈر نے اسرائیل کی حمایت کو ایران امریکہ تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیدیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹرمپ کی دوستی کی پیشکش پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کو ایران امریکہ تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہےکہ جب تک امریکہ اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا، مشرق وسطیٰ میں مداخلت کرتا رہے گا اور فوجی اڈے برقرار رکھے گا، تب تک ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی دوستی نہیں ہو سکتی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران نے طویل عرصے سے کہا ہے کہ اسے امریکہ کی حمایت پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن اسے برابری کی شرائط پر ہونا چاہیے۔ ان کے لیے یہ قومی غیرت کا معاملہ ہے۔ تاہم امریکہ اب بھی ایران کو مشرق وسطیٰ کی فوجی تجربہ گاہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے خیالات کبھی نہیں ملے۔ ایران روس اور چین جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہا ہے۔ایران اور امریکہ کے تعلقات دو پرانے پڑوسیوں جیسے ہیں، کبھی ان کے درمیان دیوار کھڑی ہو جاتی ہے تو کبھی کھڑکی سے امید کی کرن جھانکتی ہے۔ اس بار امید دوبارہ جا گ گئی تھی لیکن اب وہ بھی دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پیر کے روز کہا کہ جب تک امریکہ اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا، مشرق وسطیٰ میں مداخلت کرتا رہے گا اور فوجی اڈے برقرار رکھے گا، تب تک ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی دوستی نہیں ہو سکتی۔خامنہ ای کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اور ساتھ ہی ایک معاہدے کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ تہران اب آدھی سچائی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے سب سے بڑی شرط رکھتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکہ اسرائیل کا ساتھ نہیں چھوڑ دیتا ، تب تک اس کے دوستی کا سوال ہی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر تہران تیار ہے تو امریکہ ایران کے ساتھ تعاون اور دوستی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دوستی اور تعاون کے ہاتھ کھلے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب ایک طرف امریکہ دباؤ بڑھا رہا ہے، پابندیاں لگائی جا رہی ہیں اور دوسری طرف فری ہینڈ کی بات ہو رہی ہے، تو ایران اسے سنجیدگی سے کیسے لے سکتا ہے؟ خامنہ ای کا بیان اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات کے پانچ دور ہو چکے ہیں لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ مذاکرات میں سب سے بڑا مسئلہ یورینیم کی افزودگی کا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں کہ ایران اپنے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو مکمل طور پر روک دے، جس سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے امکانات ختم ہو جائیں۔ تاہم ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن اور اس کے خودمختار حقوق کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:میں نے دنیا بھر میں 8 جنگیں رکوائیں:ٹرمپ،نائیجیریا میں حملے کی پھر دھمکی