کینیڈا اور البرٹا کا بڑا فیصلہ، ایشیائی منڈیوں تک تیل برآمدات بڑھانے کیلئے نئی پائپ لائن کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )کینیڈا کی وفاقی حکومت اور صوبہ البرٹا نے خام تیل کی برآمدات بڑھانے کے لیے مغربی ساحل تک نئی بڑی پائپ لائن بنانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد ایشیائی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانا اور امریکہ پر انحصار کم کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ پائپ لائن روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل خام تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھے گی اور اس کی تعمیر کا آغاز ستمبر 2027 میں متوقع ہے۔
یہ اعلان کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اور البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کیلگری میں مشترکہ طور پر کیا۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ کئی ماہ کی سیاسی بات چیت اور ماحولیات و معیشت کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم کے مطابق یہ منصوبہ کینیڈا کو عالمی توانائی منڈی میں ایک بڑے سپلائر کے طور پر مزید مضبوط کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایشیائی خریدار مشرق وسطیٰ کے علاوہ متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔
پائپ لائن کا انتظام سرکاری ادارے اور البرٹا حکومت کے اشتراک سے ہوگا، جبکہ کمپنی کو ابتدائی طور پر 10 فیصد حصہ دیا جائے گا، جو بعد میں 20 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عوام تیار ہو جائیں! تیل کی قیمتوں سے متعلق خوشخبری آ گئی
منصوبے کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر اس منصوبے کی اکثریتی مالک ہوں گی، تاہم اس کی مجموعی لاگت کا حتمی تخمینہ ابھی جاری نہیں کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق کینیڈا کی تیل پیداوار 2026 میں ریکارڈ 5.3 ملین بیرل یومیہ سے بھی بڑھنے کا امکان ہے، تاہم برآمدات کے لیے فی الحال محدود راستے موجود ہیں، جن میں سب سے اہم ٹرانس مونٹین پائپ لائن ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماحولیات، مقامی قبائل کے تحفظ اور قانونی رکاوٹیں اس منصوبے کے لیے بڑے چیلنجز ہو سکتے ہیں، جبکہ البرٹا اور وفاقی حکومت کے درمیان توانائی پالیسیوں پر حالیہ مفاہمت نے اس منصوبے کی راہ ہموار کی ہے۔