’’میں جلدپہنچ جاؤں گا‘‘معروف صحافی کی آخری گفتگو، دوست نے تفصیل بتادی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)معروف صحافی اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹرراجہ مطلوب کے قریبی دوست نے ان کی آخری گفتگو اور حادثے سے متعلق تفصیلات شیئر کردیں۔
راجہ مطلوب دسمبر 2025میں اچانک ایک کار حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے قریبی دوست عدنان فیصل کی سالگرہ میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔
اسلام آباد کے سیکٹر جی11 میں راجہ مطلوب کے حادثے کی ویڈیو سوشل میڈیا پرتیزی سے وائرل ہوئی، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ دوست کی سالگرہ پر وقت پر پہنچنے کی کوشش میں تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہے تھے۔
عدنان فیصل نے ایک ویڈیو میں اپنے دوست سے متعلق کھل کر گفتگو کی اور اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے جب راجہ مطلوب ان کی سالگرہ منانے آتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
عدنان فیصل نے کہاکہ یہ سال میرے لیے بہت مشکل ہوگا کیونکہ میں نے اپنے سب سے پیارے دوستوں میں سے ایک راجہ مطلوب کو کھو دیا ہے، میرے نصیب میں کامیابیاں تو ہوں گی لیکن میرے ساتھ راجہ مطلوب نہیں ہوگا، آپ نے سوشل میڈیا پر ایک حادثے کی وائرل ویڈیو دیکھی ہوگی، وہ میرا دوست راجہ مطلوب تھا جو میری سالگرہ پر آ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟ 2026 کا پہلا ’’بنام سرکار‘‘ پروگرام
فیصل عدنان نے بتایا کہ میں نے اسے فون کیا اور کہا، تم کہاں ہو؟ میری اسلام آباد میں سالگرہ ہے اور تمہیں یہاں ہونا چاہیے، جس پر اس نے مجھے جواب دیا کہ میں کوئٹہ میں ہوں اور شاید شرکت نہ ہوسکے، وہ میرا ایسا دوست تھا جو ہر حال میں میری سالگرہ پر پہنچنا چاہتا تھا، جس کے لیے اس نے پرائیویٹ جیٹ لیا، لاہور میں لینڈ کیا اور پھر موٹروے کے ذریعے بہت تیز رفتاری سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا۔
عدنان فیصل نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ مسلسل فون کرتا رہا اور کہتا رہا کہ وہ جلد پہنچ جائے گا، رات 10 بج کر 10 منٹ پر اس نے فون کیا اور کہا کہ میں اسلام آباد پہنچ گیا ہوں اور اسی کال کے دوران مجھے ایک زوردار ٹکر کی آواز سنائی دی،اسی لمحے ایک شخص نے اس کا فون اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ حادثے کی جگہ پر آ جائیں، جس دوست کو آپ نے فون کیا تھا وہ فوت ہوچکا ہے اور جب میں وہاں پہنچا تو وہ خون میں لت پت تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ڈکی بھائی سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم کے لیے تاریخ مقرر
عدنان فیصل نے کہاکہ میں نے اسے اپنی بانہوں میں لیا، میں نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا وہ زندہ ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو چکا تھا،کچھ لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کا غم کبھی نہیں جاتا، راجہ چلا گیا ہے اور مجھے اس غم کے ساتھ ہی جینا ہوگا۔