وزیر اعظم کا گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی قیمتوں میں7.41 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ٹیرف کا فرق کم کرنے کی منظوری ملنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا، وزیر اعظم نے گھریلو صارفین کیلئے 7 روپے 41 پیسے اور صنعتی صارفین کیلئے بجلی 7 روپے 59 پیسے سستی کرنے کا اعلان کر دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے آپ کو خوشخبری سنانے آیا ہوں اور الحمدللہ وہ وعدہ پورا ہوا جو مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے اپنے منشور میں وعدہ کیا تھا، یہ بھی اعتراف کرنا چاہوں گا کہ اس سارے عمل میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج گھریلو صارفین کیلئے بجلی 45 روپے 5 پیسے فی یونٹ ہے، جو کمی کے بعد 34 روپے 37 پیسے فی یونٹ بجلی ملے گی،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا آج اللہ کے فضل سے قوم کو خوشخبری سنانے آیا ہوں، ہم نے جب اقتدار سنبھالا تو دیوالیہ ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں، آئی ایم ایف بات سننے کو تیار نہیں تھا، بجلی کے کارخانے چلانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت مشکل صورتحال کا سامنا تھا جبکہ پاکستان کو ڈیفالٹ کے دہانے پر لانے والے خوشی کے شادیانے بجا رہے تھے کہ اب کچھ بھی ہو جائے پاکستان کو کوئی ڈیفالٹ سے بچا نہیں سکتا تھا اور یہ ٹولہ پاکستان کو ڈیفالٹ کرنے کے لیے تمام حدیں پار کر گیا۔
مزید پڑھیں:یوسف رضا گیلانی کو اہم عالمی عہدےکا بانی چیئر مین نامزد کر دیا گیا
ان کا کہنا تھا اب ملک کی ترقی کا سفر شروع ہوا چاہتا ہے، گوکہ یہ سفر بہت چیلنجنگ ہے لیکن ہم اب ترقی کی طرف سفر کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا پچھلے ایک سال میں پیٹرول کی قیمت میں 38 روپے فی لیٹر کی کمی آئی، آج بھی پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہے۔
مزید پڑھیں:بانی پی ٹی آئی کی امن انعام کے لیے نامزدگی کادعویٰ:نوبیل انسٹیٹیوٹ کاردعمل آگیا
انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود ساڑھے 22 فیصد سے 12 فیصد پر آ چکا ہے جس سے کاروبار میں جان آ گئی ہے۔
نجکاری اور رائٹ سائزنگ جیسے فیصلے ہمیں کرنے پڑیں گے اس لیے کہ آئی ایم ایف کے ہوتے ہوئے سبسڈی نہیں دی جا سکتی، آئی ایم ایف کے قرض کی وجہ سے اس قوم کے 800 ارب روپے سالانہ ڈوب جاتے ہیں، سمجھتا ہوں کہ ہم سب سیاستدانوں اور اداروں کو 800 ارب روپے جمع کرنے ہوں گے۔