بلوچستان اسمبلی ،پرنس فہد ہسپتال کا مسودہ قانون منظور،میر جہانزیب مینگل کی پارٹی رکنیت معطل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عیسیٰ ترین) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں آج ایک توجہ دلاؤ نوٹس،پرنس فہد ہسپتال دالبندین کا مسودہ قانون 2025 اوربلوچستان صوبائی اسمبلی استحقاق کا ترمیمی مسودہ قانون 2025 پیش کیا گیا۔بلوچستان نیشنل پارٹی نےاسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر رکن صوبائی اسمبلی میر جہانزیب مینگل کی پارٹی رکنیت معطل کردی۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آج اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں 35 منٹس کی تاخیر سے شروع ہوا۔ممبر اسمبلی زائد علی ریکی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ناگ تا واشک روڈ تیر 2 جو کہ 14 کلومیٹر ہے کو پی ایس ڈی پی سال 25-2024 میں شامل کیا گیا ہے،روڈ پر تعمیراتی کام انتہائی سست روی کا شکار ہے،مذکورہ روڈ کی تعمیر کیلئے اب تک محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے کل کتنی رقم ریلیز کی ہے،روڈ کی تعمیرکب تک مکمل کی جائےگی تفصیل فراہم کی جائے۔
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے ایوان میں پرنس فہد ہسپتال دالبندین کا مسودہ قانون 2025 پیش کیا۔ صوبائی اسمبلی نے پرنس فہد ہسپتال دالبندین کا مسودہ قانون 2025 منظور کرلیا۔محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کی جانب سے بخت محمد کاکڑنےبلوچستان صوبائی اسمبلی استحقاق کا ترمیمی مسوده2025ایوان میں پیش کیا۔اجلاس میں حکومت کی یقین دہانی کے بعدایوان نے زابد علی ریکی کا توجہ دلاؤ نوٹس نمٹادیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کےاعلامیہ کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی میر جہانزیب مینگل کی پارٹی رکنیت معطل کردی، پارٹی پالیسیوں کی مسلسل خلاف ورزی ،پہلے شوکاز نوٹس کے غیر تسلی بخش جواب پر دو ماہ کیلئے رکنیت معطل کی گئی ہے،رکن نے مائنز ایکٹ کی اسمبلی میں مخالفت کی بجائے اجلاس میں شرکت نہ کرکے راہ فرار اختیار کی ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ کو بی این پی مسترد کرچکی ہے، یہ بلوچستان کے وسائل پر ڈاکہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا،صحافیوں پر بدترین تشدد،وزیرداخلہ کا نوٹس