ڈرون حملوں کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات کریں گے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر عوام سے ناروا سلوک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیک پوسٹس پر یہی رویہ عوام میں بے چینی اور نفرت کو جنم دے رہا ہے، جبکہ لویہ جرگہ میں ڈرون حملوں میں خواتین بچوں اور بزرگوں کی شہادت کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔
قبائلی لویہ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آج سے ڈرون اٹیکس کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے, شرپسند عناصر نے ملاکنڈ میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کی مگر عوام نے انہیں مسترد کر دیا.
جرگہ کے تمام شرکاء نے اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کا مطالبہ کیا,جرگہ سفارشات کی روشنی میں مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا گیا ،لویہ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ ایک مختصر جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو وفاقی حکومت و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرے گا،مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا اور امن تک واپسی نہیں ہوگی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں اگر آج عوام نہ اُٹھے تو امن کا خواب پورا نہیں ہوگا،صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور جیسے کالے قانون کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ 970 افراد جن کو یہ کہتے ہیں کہ دہشتگرد ہیں ،انہیں مختلف ڈیٹینشن سنٹرز میں رکھا ہوا جس کا کسی کو کوئی علم نہیں ہے،صوبائی حکومت نے ان 970 افراد کی لسٹ مانگی، خطوط لکھے مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا،زیر حراست افراد کی فہرست موجود ہو تو ہر شخص کا مکمل حساب رکھا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ 22 بڑے فوجی آپریشنز اور 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہو چکی ہیں،تمام وسائل کے باوجود امن قائم کرنے میں ناکامی تشویشناک ہے، امن کے قیام میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے، یہی وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو سو دن میں امن قائم کرنے کی ضمانت دیتا ہوں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں اور ظلم کے خلاف اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے،قبائلی نوجوانوں کو اشتعال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے،ہم ہر حال میں اپنی جدوجہد پرامن رکھیں گے، جو قانون اور آئین کی پاسداری نہیں کرتے ہمیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب فاٹا انضمام ہوا تو ہمارے ساتھ 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، اس مد میں ضم اضلاع کے 800 ارب روپے بنتے ہیں جن میں سے صرف 168 ارب روپے دیئے گئے،اگر ضم اضلاع کی آبادی کا حصہ شامل کیا جائے تو این ایف سی میں خیبرپختونخوا کا حصہ 14.6 سے بڑھ کر 19 فیصد ہو جائے گا،تشکیل دیا جانے والا جرگہ ان مالی اور آئینی حقوق کے لیے بھی جدوجہد کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں :حملے روکنے کی ضمانت اور محاصرہ ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش