آئی اے ای اے کا جوہری تحفظ کیلئے امریکہ، اسرائیل سے مذاکرات پر زور
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)جوہری توانائی کے بین الاقوامی نگران ادارے (آئی اے ای اے) نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملےکے بعد شروع ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں جوہری تحفظ کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے سفارت کاری کی طرف واپسی پر زور دیا ہے۔
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی نے ویانا میں ادارے کے بورڈ کو بتایا ہے کہ ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ ان حملوں میں ایران کی کسی جوہری تنصیب کو نقصان پہنچا ہو جن میں بوشہر جوہری پاور پلانٹ، تہران ریسرچ ری ایکٹر اور جوہری ایندھن کی تیاری کے حوالے سے کام کرنے والے دیگر مراکز شامل ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ عسکری کشیدگی کے باعث جوہری حادثے کا خطرہ بڑھ گیا ہے کیونکہ ایران سمیت حملوں کی زد میں آنے والے خطے کے کئی ممالک کے پاس فعال جوہری بجلی گھر اور تحقیقی ری ایکٹر ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے پاس چار فعال جوہری ری ایکٹر ہیں جبکہ اردن اور شام میں تحقیقی ری ایکٹر کام کر رہے ہیں۔ بحرین، عراق، کویت، عمان، قطر اور سعودی عرب بھی حملوں کی زد میں آئے ہیں اور یہ تمام ممالک کسی نہ کسی شکل میں جوہری ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بمباری کے آغاز سے اب تک ایران سے متصل ممالک میں تابکاری کی سطح معمول پر رہی ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے عسکری کارروائیوں میں انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں خلیجی ریاستوں نے ایران کی جانب سے جوابی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جارحانہ کشیدگی بند کرے جس سے علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔
My statement to the special session of the @IAEAorg Board on Governors this morning on the situation in the Middle East.https://t.co/R8z6qasLhA pic.twitter.com/RMCgTjuumd
— Rafael Mariano Grossi (@rafaelmgrossi) March 2, 2026
ایران کی جانب سے بحرین، اردن، عمان، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اسرائیل میں میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں لبنان کے اندر بھی کارروائی کی ہے۔
کونسل میں متحدہ عرب امارات کی نمائندہ شاہدہ مطر نے کہا کہ 28 فروری سے ان کے ملک پر ایران کے حملوں میں تین شہری ہلاک اور 58 زخمی ہوئے ہیں۔ یہ کارروائی ملکی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اسی موقف کی تائید کرتے ہوئے کویت کے نمائندے ناصر عبداللہ نے بھی ایران کے میزائل حملوں کی مذمت اور اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے ملک کے دفاع کے حق کی توثیق کی۔
ایران کے نمائندے علی بحرینی نے کونسل کو بتایا کہ ان کا ملک بدستور اندھا دھند اور جارحانہ حملوں کی زد میں ہے۔ حالیہ دنوں میں سکولوں پر بھی بمباری کی گئی، ہسپتالوں کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا، ملک کے روحانی و مذہبی پیشوا سمیت قیادت کو قتل کیا گیا اور ہلال احمر کے ہیڈکوارٹر سمیت کئی غیر فوجی عمارتیں تباہ کر دی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہفتے کو ایران کے جنوبی شہر میناب میں ایک پرائمری سکول پر حملے میں 160 سے زیادہ طالبات ہلاک ہو چکی ہیں، اطلاعات کے مطابق، ایران پر ہفتے کو شروع ہونے والے حملوں کے بعد اب تک 550 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ جن مقامات کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے ان میں تہران کا گاندھی ہسپتال بھی شامل ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ صحت کی سہولیات پر حملے نہ کریں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے،ایران کے نمائندے نے کونسل کو بتایا کہ ان کے ملک پر جاری حملے غیر قانونی جارحیت اور انسانی حقوق کے اصولوں پر طاقت کے غلبے کی مثال ہیں۔
ایران نے اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کے شرکا کو بھی ایک خط بھی ارسال کیا، جس میں کہا گیا کہ جب تک جارحیت جاری رہے گی وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ جنیوا میں ایران کے مستقل مشن نے کہا ہے کہ جارحیت کی اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ کے تمام فوجی اڈے، تنصیبات اور اثاثے اب ان کے ملک کا جائز ہدف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ایران کی موجودہ صورتحال، سیکریٹری پیٹرولیم کا اہم بیان آگیا