ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دینے کیلئے کمیٹی قائم
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دینے کیلئے کمیٹی قائم کردی گئی ۔
ملک کے مختلف اضلاع میں 14، 14 گھنٹوں کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث ٹیلی کام سروسز میں شدید تعطل پیدا ہو گیاہے اورکمپنیاں بجلی کے بل 100 فیصد ادا کرنے کےباوجود لوڈ شیڈنگ سے متاثر ہیں۔
اب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے حکام کاکہناہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے، کمیٹی سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے، جس کی تشکیل آکشن ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہے۔
کمیٹی میں نیپرا، پاور ڈویژن اور ٹیلی کام انڈسٹری کے نمائندے بھی شامل کیے گئے ہیں،کمیٹی ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اسمارٹ حل تجویز کرے گی جبکہ گرڈ اسٹیشن سے فیڈر آف ہونے کی صورت میں بھی ٹیلی کام ٹاورز کو الگ سے بجلی کی سپلائی فراہم کرنے کی تجویز پر غور کیا جائے گا،ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کو ریلیف دینے کے لیے انڈسٹریل پاور ٹیرف کی کیٹیگری میں شامل کرنے پربھی غور ہوگا۔
وزارت آئی ٹی کے حکام کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اپنے ٹاورز پر سولر سسٹم لگانے کا پابند بنایا جائے ،تاہم کمیٹی اپنی جامع سفارشات اور رپورٹ 3 ماہ کے اندر وفاقی حکومت کو جمع کروانے کی پابند ہوگی۔
پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں بجلی کے بلوں کی مد میں کسی قسم کی نادہندہ نہیں اور 100 فیصد بلوں کی ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ کا شکار ہو رہی ہیں،ٹیلی کام کمپنیاں 3 سے 4 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ میں تو سروسز برقرار رکھ سکتی ہیں، لیکن ملک کے کئی علاقوں میں ہونے والی 14 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ میں جنریٹرز کے ذریعے سروسز چلانا ممکن نہیں رہا لہٰذا، ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈشیڈنگ سے فوری استثنیٰ ملنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:جمہوریہ کانگو میں ایبولاوائرس بے قابو، کیسز میں اضافہ،438 ہلاکتیں
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دورانِ بریفنگ اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ صرف بجلی کا بحران ہی نہیں، بلکہ ملک کے بعض علاقوں میں امن و امان کی خراب صورتحال بھی ٹیلی کام سروسز کے متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔