ٹرمپ ایران میں تیل، گیس اور انرجی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کے نئے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے

Aug 02, 2026 | 23:56:PM
 ٹرمپ ایران میں تیل، گیس اور انرجی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کے نئے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) وال سٹریت جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں تیل، گیس اور انرجی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کے نئے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر نئے حملوں سے کیوں پیچھے ہٹنا پڑا، اس حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل نے اہم رپورٹ آج شائع کی ہے۔ 

وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران پر نئے حملے روکنے اور سفارتی راستہ اپنانے پر دباؤ ڈالا، ایران سے جنگ امریکی ووٹرز میں غیر مقبول ہو رہی ہے۔

وال سٹریت جرنل نے پہلے یہ رپورٹ کیا تھا کہ اس ہفتے کے آخر میں (آج اتوار تک) امریکہ ایران پر نئی ائیرسٹرائیکس کی لہر کا آغاز کرے گا جس میں امکان ہے کہ اسرائیل بھی شامل ہو گا۔ اب وال سٹریت جرنل نے نئی رپورٹ میں بتایا کہ صدر پر یہ نئے حملے نہ کرنے کے لئے دباؤ ہے جس نے انہیں فیصلہ بدلنے پر مجبور کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق جنگ کی صورت میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشن) سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی پوزیشن متاثر ہونے کا خدشہ ہے، ایرانی حکام ڈونلڈ ٹرمپ کی اندرونی سیاسی مشکلات کو مذاکرات میں اپنے لیے ممکنہ فائدہ سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:      آج رات تھنڈر سٹارم اور موسلادھار بارش کی پیشین گوئی 

وال سٹریت جرنل  نے  لکھا کہ خلیجی ممالک امریکہ  کی ایران پالیسی پر غیر یقینی صورتحال کے باعث شدید تشویش کا شکار ہیں، سعودی عرب نے امریکی صدر پر سفارتکاری اور کشیدگی میں فوری کمی کو ترجیح دینے پر زور دیا جبکہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایران کے خلاف سخت امریکی فوجی کارروائی کا حامی ہے۔

 قطر نے آبنائے ہرمز  کو کھولنے کی نئی تجویز پیش کی جس پر ایران نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی، تاہم جہاز رانی کے راستوں کے کنٹرول اور ٹرانزٹ فیس سمیت اہم معاملات پر تاحال اختلافات برقرار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شاہین آفریدی کی لنکا لیگ چھوڑ کر واپسی، کیا ہوا تھا؟ حقائق سامنے آگئے