پمز اسپتال کا سانپ کانے بچے کی ویڈیو پر ردعمل آ گیا،خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد ترک) سوشل میڈیا پر پمز اسپتال بارے زیرِگردش سانپ کاٹے سے زخمی ہونیوالے بچے کی ویڈیو کے حوالے سے پمز ہسپتال کی جانب سے ردِ عمل ای ڈی پمز ڈاکٹر عمران سکندر کا کہنا ہے کہ بچے کو بروقت ویکسین دی گئی، مکمل علاج کیا گیا، حالت بگڑنے پر جان بچانے کیلئے شفاء ہسپتال ریفر کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہے، اسپتال نے کسی قسم کی غفلت نہیں برتی۔
ای ڈی پمز ڈاکٹر عمران سکندر نےکہا ہے کہ پولی کلینک سے بھی رابطہ کیا گیا، وہاں وینٹی لیٹر دستیاب نہ تھا،اُس وقت پمز کے تمام وینٹی لیٹرز زیر استعمال تھے،ای ڈی پمز نے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ بھی فراہم کر دیا،سانپ کاٹے سے زخمی بچہ 31 جولائی صبح 8:35 پر پمز لایا گیا، 17 منٹ میں بچے کا معائنہ، ٹیسٹ کیلئے سیمپلز بھجوائے جا چکے تھے،سانپ کاٹے سے زخمی بچے کو اینٹی وینم ویکسین کے 10 انجکشن لگائے گئے،سانپ کاٹے سے زخمی بچے کو دیگر ادویات بھی شروع کرائی گئی تھیں، اینٹی وینم ویکسینیشن کے دوران سینئر فزیشن، آئی سی یو ٹیم نے بچے کا معائنہ کیا، ڈاکٹرز نے حالت بگڑنے پر بچے کو وینٹی لیٹر پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، پسانپ کاٹے سے زخمی بچے کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا، پمز اسپتال میں وینٹی لیٹر خالی نہ ہونے پر بچے کو ریفر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پمز نے ریفرنگ سے قبل نجی اسپتال سے وینٹی لیٹر دستیابی کی تصدیق لی، ڈاکٹرز نے وینٹی لیٹر کی عدم دستیابی پر بچے کو ریفرل لیٹر جاری کیا،پمز کے سٹاک میں اے وی ویکسین کے 700 سے زائد وائلز موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کے بارے اے پی سی اعلامیے پر بی ایل اے کی چھاپ شرمناک حد تک واضح ، سینیٹر عرفان صدیقی