محنت کشوں کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یوم مزدور منایا جارہا ہے،ملک بھر میں آج عام تعطیل ہے۔
پاکستان میں قومی سطح پر یوم مزدور منانے کا آغاز 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوا، اس دن کی مناسبت سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات، سیمینارز، کانفرنسز اور ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
آج محنت کشوں کے عالمی دن پر اسلام آباد میں کانفرنس ہوگی، بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن اور نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کی کانفرنس میں قانونی ماہرین، ججز اور آئی ایل او کے نمائندے شریک ہوں گے۔
چیئرمین این آئی آر سی جسٹس ریٹائرڈ شوکت صدیقی کا کہنا ہے کہ کانفرنس سے آجر اور اجیر کے درمیان روابط اور مزدور کے حقوق پر بات ہوگی۔
آئی ایل او کے کنٹری ڈائریکٹر گئیر تھومس ٹونسٹول کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے حقوق سے آگاہی اور ان پر عمل سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے ۔
کانفرنس میں لیبر قوانین اور عدالتی امور پر سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن اور جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے اظہارِ خیال کریں گے۔
کانفرنس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ اور چوہدری سالک حسین کے علاوہ بیرسٹر ظفر اللّٰہ خان، جنرل سیکریٹری سپریم کورٹ بار سلمان منصور اور وفاقی سیکریٹری ڈاکٹر ارشد محمود بھی شریک ہوں گے۔
عالمی یوم مزدور اس عزم کے ساتھ منایا جارہا ہے کہ مزدور کی حالت میں بہتری لانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی جائے گی، دیکھنا تو یہ بھی ہوگا کہ ہمارے جیسے ممالک میں مزدور کے حالات میں کوئی بہتری بھی آئی ہے یا نہیں۔
عالمی یوم مزدور کی حقیقت امریکی شہر شکاگو سے ابھری ہے، یہ 1886 کو یکم مئی کا واقعہ ہے جب شکاگو کے مزدور، سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کی جانب سے استحصال پر سڑکوں پر نکل آئے لیکن اس دوران ان کے مطالبات سننے کی بجائے الٹا پولیس نے ان مزدوروں کے جلوس پر فائرنگ کر دی جس سے سیکڑوں مزدور جاں بحق ہو گئے۔
یہی کافی نہیں تھا بلکہ اس جلوس کے دیگر گرفتار درجنوں مزدوروں کو تختہ دار پر لٹکا دیا، اس واقعہ کی یاد میں اور شکاگو کے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے دنیا بھر میں آج کے دن یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔