کوالٹی کرکٹ  اور Repeat ٹیلی کاسٹ

از: دلبر خان

Mar 01, 2026 | 09:15:AM
کوالٹی کرکٹ  اور Repeat ٹیلی کاسٹ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

  یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی شائقین جیت کے تصور میں ہی زندہ رہنا پسند کرتے ہیں جس کی آنکھوں دیکھی مثالیں بینک کے دروازے پر بیٹھے گارڈ، مچھلی منڈی کا آڑھتی ، لاہور سے راولپنڈی جاتی ہوئی بس کا ڈرائیور ، چھوٹے سے محلے میں موجود کریانے کی دکان کا مالک اور افطاری سے قبل دستر خوان پر بیٹھے باپ بیٹا سب پاکستانی ٹیم کے اگر مگر فارمولے کا شکار نظر آئےلیکن سری لنکا کو مطلوبہ ہدف میں آؤٹ نہ کرنے پر  پاکستانی ٹیم کا چھوٹا سا سفینہ کرکٹ کے سمندر میں غرق ہو چکا ہے۔

آج کی ٹی ٹونٹی کرکٹ پاور ہٹنگ، ایتھلیٹک فیلڈنگ اور بے خوف اپروچ مانگتی ہے لیکن ٹورنامنٹ میں ہماری ٹیم ابھی بھی روایتی انداز میں کھیلنے کی کوشش کر رہی تھی،ورلڈ کپ میں کوچ مائیک ہیسن، کپتان سلمان آغا اور شاداب خان کا ٹرائینگل، بابراعظم کو بگ بیش میں پرفارمنس دیکھنے کے باوجود بار بار چانس دینا،ابتدائی میچوں میں فخر کو بنچ پر بٹھاناسوالیہ نشان ہے۔

 بحثیت قوم ہم کامیابی میں حد سے زیادہ خوشی جذب  کر لیتے ہیں لیکن جب  ناکامی سامنے آتی ہے تو تلخی ناقابل برادشت حد تک بڑھ جاتی ہے،رواں سال پاکستان کرکٹ بورڈ نے بی سی اور ڈی کیٹیگری میں کھلاڑیوں سے کنٹریکٹ کئے جبکہ ورلڈ کپ کھیلنے والی قومی ٹیم  میں ایسا کوئی کھلاڑی موجود نہیں تھا جو اے کیٹیگری کا ہو، ایسے کھلاڑیوں سے کوالٹی کرکٹ کی ڈیمانڈ ایسے ہی تھی جیسے انوکھا لاڈلا کھیلن کومانگے چاند۔

 ٹیم کی  ناکامیوں پر غصے سے بھرے ایک شائق  کی بات حقیقت پر مبنی نظرآئی کہ موجودہ پاکستانی ٹیم میں کوئی کوالٹی پلیئر موجود ہی نہیں ’’ٹیم کتھوں جتے گی‘‘ بیٹسمین سب ٹلےاور بائولر جن کی کوئی لائن لینتھ ہی نیں ایک گیند آف پر اور دوسرا لیگ سائڈ پر  ، ان تمام باتوں کے باوجودآج  کرکٹرز کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے ایک اندازے کے مطابق ورلڈ کپ کے ایک ٹی ٹونٹی میچ کی فیس تقریباً 17 لاکھ پاکستانی روپے ہے، جبکہ عام میچ میں کھلاڑی کو تقریباً 5 لاکھ روپے ملتے ہیں دوسری طرف  بیٹ پر پرائیویٹ سپورٹس کمپنی کا سٹکر لگا کر کھیلنے پر بھی کرکٹر کو کروڑوں ملتے ہیں اور پچاس یا سو رنز کرنے پر کمپنی کی طرف سے بونس ملتا ہے اسی لئے کھلاڑی سنچری یا ففٹی کرنے پر بیٹ کا سٹکر سکرین کی طرف نمایاں کرتا ہے تا کہ کمپنی اسے زیادہ سے زیادہ بونس دے۔

ہر کھلاڑی کیلئے غیر ملکی لیگز سونے کا انڈا دینے وال مرغی  ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  ایک  صاحب لیگ کے آکشن کے موقع پر فروخت نہ ہو سکے اور ٹی وی سکرین پر روتے ہوئے نظر آئے، انہیں شاید کوئی بتانے والا نہیں تھا کہ جاؤ بھیا ڈومیسٹک کرکٹ کھیلو، پرفارم کرو، خود کو اعلیٰ معیار کا ثابت کرو پھر کوئی نہ لے تو آنسو بہاؤ۔

اب سابق کرکٹرز کی بھی سن لیں جو اپنے یو ٹیوب چینلز پر قومی ٹیم پر تنقید کرتے زیادہ سے زیادہ’’ چورن ‘‘بیچنے  کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں وجہ سب کو پتا ہے ان کا ہدف زیادہ ویوز اور ڈھیروں سبسکرائبرزحاصل کرنا ہوتا ہے، ایک زمانہ تھا جب سابق کرکٹرز ٹیم پر تنقید کرتے ہوئے کرکٹ بورڈ میں نوکریاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے اور پندرہ بیس سال پہلے کے بورڈ کے سربراہان اپنی کرسی بچانے کیلئے ان کو بڑے بڑے عہدے آفر کر دیتے تھے بندہ اس وقت کے ایک انتہائی معتبر روزنامے کا سپورٹس ایڈیٹر تھاایک سابق کرکٹر کا ٹیم کی ہار پر تنقید سے بھر پور تبصرہ شائع کیا، تین چار دن کے بعد اپنے ہی اخبار میں خبر لگائی کہ موصوف کو پاکستان کرکٹ بورڈ میں چیف سلیکٹر بنا دیا گیا ہے عہدہ ملنے کے بعدٹیم کی شکست پر دوبارہ بات چیت کا اتفاق ہوا تو جناب کی’’ ٹیون‘‘ ہی بدلی ہوئی تھی ٹیم کی شکست کا سارا ملبہ موسم، وکٹ اور کھلاڑیوں پر ڈال دیا ، آج کی قومی ٹیم خوش قسمت ہے کہ ان کو محسن نقوی جیسا چیئر مین ملا ہوا ہے پی سی بی کے سربراہ سب کو فری ہینڈ دیتے ہیں میگا ایونٹس سے قبل ہر کھلاڑی سے ملاقات کرتے ہیں پلیئرز کا حوصلہ بڑھانے کیلئے ان کے یہ الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں کہ’’  شاباش کھل کر کھیلنا ہے دباو میں نہیں آنا اپنا ہنڈرڈ پرسنٹ دینا ہے باقی ہار جیت کھیل کا حصہ ہے‘‘

 پاکستان ٹیم کی ورلڈ کپ میں ناکامیوں کی بڑی اور اہم وجہ اس ملک میں کھیلی جانیوالی ٹیپ بال کرکٹ ہے، نوجوان اب 6 ،6 اووروں کے میچز کھیل کر ایک دو گھنٹے میں گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، موجودہ پاکستانی کھلاڑیوں کی اکثریت نے اپنی ابتدائی کرکٹ ٹیپ بال سے شروع کی اور اپنے علاقے کے ہیرو کہلوائے شہرت مقامی ایسوسی ایشنز تک پہنچی چانس ملا ایک دوفرسٹ کلاس میچز میں کلک کر گئے اور پاکستانی ٹیم میں۔۔ٹیم میں آنے کے بعد کوچز نے ان کا فٹ ورک ، سٹانس درست کرنے کی کوشش کی  جس نے ان کی رہی سہی کرکٹ کا بھی بیڑا غرق کر دیا۔

پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ سے باہر ہو چکی ہے مگریہ ورلڈ کپ ہمیں سکھا گیا کہ صرف ٹیلنٹ کافی نہیں ہوتا اگر ہم نے سمت درست نہ کی تو اگلا ورلڈ کپ بھی نئی جرسیوں میں پرانی کہانی دہرائے گا: نئی سلیکشن، نیا کپتان، نئی امید — مگر پرانا نظام ہو تو انجام بھی پرانا ہی لکھا جاتا ہے۔ اگر ہم نے احتساب کو روایت نہ بنایا تو ہر ورلڈ کپ میں کوالٹی کرکٹ کھیلنے والوں کے سامنے ہماری ٹیم کی پرفارمنس  ایکRepeat ٹیلی کاسٹ ہی لگے گی۔