ایرانی حکام نے اسرائیلی حملوں میں خانہ ای کے داماد اور بہو کے شہید ہونے کی تصدیق کر دی

Mar 01, 2026 | 00:32:AM
 ایرانی حکام نے اسرائیلی حملوں میں خانہ ای کے داماد اور بہو کے شہید ہونے کی تصدیق کر دی
کیپشن: اس فوٹو میں درمیان میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبی دکھائی دے رہے ہیں۔  یہ تصویر  31 مئی 2019 کو تہران، ایران میں یوم القدس  کی سالانہ ریلی میں  بنائی گئی۔  اب ایرانی حکام نے مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ کے آج حملے میں شہید ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ مجتبیٰ کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) اسرائیل نے ایران پر آج کئے گئے حملوں کو ابتدائی حملے کہا ہے اور  بتایا ہے کہ ان حملوں میں  30 کے لگ بھگ شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ بھی مارے گئے۔ اب ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ آج ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مجتبی خانہ ای کی بیوی شہید ہوئی اور خامنہ ای کے داماد شہید ہوئے۔

اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانہ کے ترجمان نےہفتے اور اتوار کی درمیانی شب بتایا  کہ  ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے داماد اور بہو کے امریکی و اسرائیلی فوجی حملوں میں شہید ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

ایرانی سفارت خانہ کے ترجمان نے بتایا کہ  آج حملے مین شہید ہونے والی زہرا حداد عادل  ایرانی سپریم لیڈر کی بہو  اور مجتبی خامنہ ای کی اہلیہ تھیں۔

اس سے پہلے ہفتہ کی سہ پہر اسرائیل کے میڈیا نے بتایا کہ ابتدائی اسرائیلی حملوں نے تقریباً 30 اہم ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنایا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے  کمپاؤنڈ  پر 30 بم گرائے گئے۔

Captionایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (بائیں) 17 فروری 2026 کو تہران میں ایک خطاب کے دوران نظر آئے۔ (فوٹو: ایرانی سپریم لیڈر کا دفتر )، دوسری فوٹو میں سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی 13 اگست 2025 کو بیروت، لبنان کا دورہ کر رہے ہیں۔ (فوٹو: لبنانی پارلیمنٹ / اے ایف پی)

آج صبح ایران پر اسرائیل کے ابتدائی حملوں میں مبینہ طور پر سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی سربراہی میں ایرانی حکومت کے 30 اہم رہنماؤں اور فوجی سربراہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی حکام  نے  یہ دعویٰ ککیا کہ ایران کے سپریم لیڈر کے حملے میں نشانہ بننے کے متعلق کوئی واضح علم نہیں ۔ اسرائیلی فوج نے پہلی مرتبہ براہ راست کسی خودمختار ریاست کے سربراہ کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے - لیکن اس پر کوئی سرکاری اسرائیلی تبصرہ  ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات تک سامنے نہیں آیا۔

کچھ دیر پہلے  ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ "جہاں تک میں جانتا ہوں" خامنہ ای زندہ ہیں ۔

چینل 12 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر تہران میں خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر تقریباً 30 بم گرائے اور خامنہ ای اس مقام پر زیر زمین تھے، لیکن وہ ان دو گہرے بنکروں میں سے ایک میں بھی نہیں تھے جہاں صرف امریکی بم ہی گھس سکتے تھے۔ اس رپورٹ میں خامنہ ای کے ملٹری سکریٹری اور خامنہ ای کے خاندان کے غیر متعینہ ارکان کے مارے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ سیٹلائٹ کی تصاویر نے کمپاؤنڈ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ 

اسرائیل کی مجتبیٰ خامنہ ای کے شہید ہونے کی قیاس آرائی

اسرائیل کے ریاستی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای - جن سے بہت سے لوگوں کو اپنے والد کی جانشینی کی توقع تھی - کو بھی قتل کر دیا گیا ہے۔


تائمزآف اسرائیل نے بتایا کہ  اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے پاسدارانِ اانلقاب کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور اور ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ حملوں میں مارے گئے۔ ایرانی انٹیلی جنس کے اہم سربراہوں کی طرح صدر مسعود پیزشکیان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

امریکہ کی نیوز آؤٹ لیٹ اے بی سی نیوز سے انٹرویو میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس تمام جانی نقصان کی تردید کی۔

اسرائیل کا چینل 12 نیوز اب کہتا ہے کہ ایرانی آرمی چیف سید عبدالرحیم موسوی کو نشانہ بنایا گیا،  اور خامنہ ای کے اہم ممکنہ جانشین، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

Caption  ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل عبدالرحیم موسوی۔ (سکرین کیپچر)


پاسدارانِ انقلاب کے بحری وِنگ کے سابق سربراہ اور ایرانی فوج کے سربراہ علی شمخانی کو بھی نشانہ بنایا گیا، اور ایران انٹرنیشنل کی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، وہ مارے گئے۔  اسرائیل نے انہیں گزشتہ جون کی جنگ میں نشانہ بنایا، اور ابتدائی طور پر یہ خیال کیا کہ  وہ مارے گئے۔ 


چینل 12 کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر، ابتدائی اسرائیلی حملوں میں حکومت کے تقریباً 30 اہم رہنماؤں اور فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، شاید یہ ایسا ہوا  ہے کہ "30 کو 30 سیکنڈ میں نشانہ بنایا گیا۔"

یہ بھی پڑھیئے:  صورتحال کشیدہ:ایران کے یو اے ای، ابوظہبی، قطر، کویت ،ریاض اور بحرین میں امریکی ائیربیسز پر حملے