ایران میں امریکہ اسرائیل کو حملوں کا بہانہ‘ فراہم کرنے پر دو افراد کو پھانسی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)ایران نے امریکہ اسرائیل حملوں کا ’بہانہ‘ فراہم کرنے پر دسمبر، جنوری کے احتجاج میں پکڑے گئے دو مظاہرین کو پھانسی دے دی۔
مہرداد محمدینیا اور اشکان ملیکی کو جنوری میں ہونے والے بڑے احتجاج کے دوران مسجد پر حملے کے الزام میں پھانسی دی گئی۔
اے ایف پی نے تہران سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے پیر کے روز دو افراد کو پھانسی دے دی جنہیں دسمبر اور جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کرنےاور آگ لگانے کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔
فروری میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے، ایران میں پھانسیوں میں تیزی آئی ہے، اس سے پہلے بھی مظاہروں کے دوران گرفتار کئے گئے بہت سے مجرموں کو پھانسی دی گئی۔
ایران کی عدلیہ نے میزان نیوز ایجنسی کے ذریعے اعلان کیا کہ "مہرداد محمدیہ اور اشکان مالکی، جو ایک مسجد میں آتشزدگی اور تباہی کے مرکزی مجرم ہیں، کو آج صبح پھانسی دے دی گئی ہے۔"
میزان نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں ان کی گرفتاری یا ٹرائل کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
دسمبر کے آخر میں، ایران میں ایک احتجاجی تحریک، جو کہ مہنگائی کے سبب بڑھتے ہوئے اخراجات پر غصے کی وجہ سے پھیلی، تیزی سے وسیع پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں میں پھیل گئی تھی۔ اس دوران تشدد بھی سامنے آیا اور بہت سے لوگ گرفتار ہوئے۔
یہ تحریک 8 جنوری کو زبردست احتجاج کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی جس نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ حکام نے سخت کریک ڈاؤن کے ساتھ رد عمل کا اظہار کیا جس میں لاتعداد افراد مارے گئے۔
ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل کے لیے کام کرنے والے "دہشت گردوں" پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام لگایا، لیکن بیرون ملک مقیم ایرانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے جان بوجھ کر مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔
میزان نیوز ایجنسی نے فروری میں جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "امریکہ اور صیہونی حکومت کی طرف سے فوجی حملے کے خطرے کے پیش نظر، ان افراد کے اقدامات نے… فوجی جارحیت کا بہانہ بنایا۔"
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کے کئی گروپوں کا کہنا ہے کہ ایران چین کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ پھانسی دینے والا ملک ہے۔
ناروے میں قائم ایک تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق حکام نے 2025 میں 1,639 افراد کو سزائے موت دی، جو کہ 1989 کے بعد سے ایک ریکارڈ تعداد ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: امریکہ کا جنگ بند کرنے کے معاہدہ کی طرف زیادہ واضح قدم؛ افواہیں کیا ہیں اور حقائق کیا ہیں؟