وفاقی حکومت کے محدود وسائل ، بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے:احسن اقبال
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے پاکستان کا ترقیاتی بجٹ جمود کا شکار ہے جبکہ ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے تقریباً 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں۔
سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت کو محدود وسائل کا سامنا ہے کیونکہ بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے مقابلے میں وفاقی حکومت کے پاس وسائل کم ہیں اور وفاق و صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں فرق مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت کے پاس 720 ارب روپے مالیت کے نئے ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز موجود ہیں جبکہ تقریباً 5 ہزار ارب روپے کے منصوبوں کے پی سی ون پر کام جاری ہے، انہوں نے کہا کہ جاری منصوبوں کی تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاہم وسائل کی کمی کے باعث غیر اہم منصوبوں کو جاری رکھنا ممکن نہ بھی ہو سکے۔
احسن اقبال نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1126 ارب روپے مختص کیے گئے تھے تاہم ترقیاتی ضروریات اس سے کہیں زیادہ ہیں، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی اہمیت کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ وفاق کے پاس ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل مسلسل کم ہو رہے ہیں جو ایک المیہ ہے، ان کے مطابق آج وفاق کا ترقیاتی بجٹ تقریباً اسی سطح پر ہے جہاں وہ 2018 میں تھا، جبکہ گزشتہ آٹھ برسوں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے کے قریب جمود کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اہم خبر!پنجاب میں مارکیٹس، شاپنگ مالز کے اوقات کار ؟
سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں اہم ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دینا چاہتی ہے اور آئندہ بجٹ میں بلوچستان کے لیے 100 ارب روپے مالیت کے منصوبوں کی تجویز دی گئی ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت ہائی وے N-25 کی تعمیر و بہتری کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنا چاہتی ہے، جو صوبے کی اہم شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحادی جماعتوں سے متعلق 87 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف وزارتوں کی ترقیاتی ضروریات تقریباً 3 ہزار ارب روپے ہیں، تاہم محدود وسائل کے باعث حکومت ان تمام ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دستیاب فنڈز کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کرتے ہوئے جاری اور اہم قومی منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔