’’بچوں کو لاڈ پیار سے بگاڑنا نہیں، شعور سے سنواریں‘‘جنٹل پیرنٹنگ کیا ہے؟ جانئے

Jun 01, 2025 | 02:15:AM
’’بچوں کو لاڈ پیار سے بگاڑنا نہیں، شعور سے سنواریں‘‘جنٹل پیرنٹنگ کیا ہے؟ جانئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) جب بزرگ کہتے ہیں، "ہمارے زمانے میں بچوں کو بات کرنے کی اجازت نہیں تھی جب تک ان سے پوچھا نہ جائے  اور نافرمانی پر مار پڑتی تھی" تو یہ بات واضح کرتی ہے کہ پرانی طرزِ تربیت سختی اور اطاعت پر مبنی تھی  مگر آج کی نسل کے والدین میں سے بڑی تعداد 'جنٹل پیرنٹنگ' یا نرم تربیت کو ترجیح دے رہی ہے۔

لیکن جنٹل پیرنٹنگ حقیقتاً ہے کیا؟ اور یہ بچوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟ماہر نفسیات ڈاکٹر برائن رازینو کے مطابق جنٹل پیرنٹنگ کا مطلب بچوں کو لاڈ پیار سے بگاڑنا نہیں بلکہ نرمی اور حدود کو متوازن انداز میں لاگو کرنا ہے، اس کا مقصد بچوں کو جذباتی ذہانت، خود پر قابو پانے اور معاشرتی اقدار سکھانا ہے۔

یہ تربیتی انداز والدین کے اس نئے رجحان کا حصہ ہے جس کے مطابق وہ اپنے بچوں کو محبت، توجہ، دیانت دار مکالمے اور کم چیخ و پکار کے ساتھ پالنا چاہتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق عموماًوالدین کے 4 بنیادی انداز ہوتے ہیں جس میں سے غافل (Neglectful) جہاں  نہ تو محبت ہے نہ ہی حدود امتزاج ہو، بچے کی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دی جاتی ، اس کے بعد آمرانہ (Authoritarian) جس میں  سختی، حکم اور سزا پر مبنی  جیسے "کیونکہ میں نے کہا ہے والی صوتحال ہوتی ہے،پھر روادار (Permissive) جس میں محبت تو ہوتی ہے لیکن کوئی واضح اصول یا نتائج نہیں ہوتےاور اس کے علاوہ بااختیار (Authoritative) جس میں  نرمی، سمجھداری، اور ساتھ ہی واضح حدود کا امتزاج ہی کام آتا ہے، یہ انداز سب سے زیادہ متوازن اور مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
 اگرچہ جنٹل پیرنٹنگ کو سائنسی لٹریچر میں باضابطہ تربیتی طرز کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا  لیکن یہ بااختیار (Authoritative) انداز سے کافی حد تک مشابہت رکھتا ہے۔

تحقیقی ماہرین انی پیزلا اور ایلس ڈیوڈسن کی 2024 کی تحقیق کے مطابق  سوشل میڈیا پر جو والدین جنٹل پیرنٹنگ کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کی اکثریت جذباتی نظم، نرم لہجہ  اور منطقی حدود پر زور دیتی ہے۔

 عملی مثال: کھانے کے دوران نظم و ضبط؛
فرض کریں بچہ پلیٹ سے کھانا اٹھا کر زمین پر پھینک رہا ہے ؛ 

روادار والدین اس پر ردعمل دیتے ہوئے  صرف گزارش کریں گے "ایسا نہ کرو" اور بات ختم جبکہ آمرانہ والدین  ڈانٹیں گے یا سزا دیں گے۔
اس کے علاوہ بااختیار/جنٹل والدین  کہیں گے "مجھے لگتا ہے تم کھیلنے کے موڈ میں ہو، مگر کھانے کے دوران کھانا پلیٹ میں ہی رہتا ہے  اگر دوبارہ ایسا کیا تو میں پلیٹ ہٹا دوں گا۔"
یہ فرق بچے کو نظم، احترام، اور انتخاب کی اہمیت سکھاتا ہے اور وہ بھی بغیر خوف یا شرمندگی کے۔

 کیا جنٹل پیرنٹنگ بہت نرم ہے؟
کچھ  لوگوں کا خیال ہے کہ اس انداز میں سختی کی کمی ہے  مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ جنٹل پیرنٹنگ نرم ہے، کمزور نہیں، اس میں جذباتی تربیت، حد بندی، اور بچے کی خودمختاری کو یکجا کیا جاتا ہے۔

 آخرکار، جنٹل پیرنٹنگ بچوں میں اعتماد،خود آگہی،نظم و ضبط اور جذباتی ذہانت کو فروغ دیتی ہے اگر اسے صحیح طریقے سے اپنایا جائے  تو یہ تربیتی انداز نہ صرف بچوں کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ والدین کے لیے بھی کم تناؤ اور زیادہ مثبت تعلق کی بنیاد بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: "کامیاب لوگوں کے پیچھے باتیں کرنا ناکام ہونیوالوں کی مجبوری ہے" بابر اعظم کے والد کا نوٹ وائرل