ایران نے یورینیم ذخیرے میں اضافے سے متعلق IAEA کی رپورٹ کو مسترد کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران نے گزشتہ 3ماہ میں اعلیٰ سطح پر افزودہ، ہتھیاروں کے قریب معیار کے یورینیم کے ذخیرے میں 50 فیصد اضافہ کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ IAEA کی رپورٹ سیاسی مقاصد پر مبنی اور بے بنیاد الزامات کا اعادہ ہے، ایران نے مزید کہا کہ یہ اقدامات ایسے وقت پر کیے جا رہے ہیں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی کے مذاکرات جاری ہیں۔
IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے 28 مئی کو ویانا میں ایک سیمینار کے دوران کہا تھا کہ ایران کے پاس موجود یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافہ فکرمندی کا باعث ہے اور یہ مقدار ہتھیاروں کے درجے کے قریب پہنچ رہی ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعدی نے تہران کا مختصر دورہ کیا جس کے دوران انہوں نے امریکی تجویز کے چند نکات ایران کے سامنے رکھے، عراقچی کے مطابق ایران ان تجاویز کا مناسب اور جامع جواب دے گا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ اسرائیلی حملے کی صورت میں وہ امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔
عراقچی نے کہا کہ اس تجویز کا جواب ایرانی عوام کے اصولوں، قومی مفادات اور حقوق کے مطابق دیا جائے گا، تہران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
یاد رہے کہ آئی اے ای اے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ 17 مئی تک ایران نے 408.6 کلوگرام (900.8 پاؤنڈ) یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر لیا ہے جو ایسا کرنے والی واحد غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہے، اقوام متحدہ کی ایجنسی کے مطابق اس نے اپنے ذخیرے کو تقریباً 50 فیصد سے بڑھا کر 133.8 کلوگرام تک پہنچا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں 50 فیصد اضافہ کرلیا، آئی اے ای اے کا انکشاف