بھارت  کیساتھ جوہری تنصیبات ،قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ، پاکستان کا یمن میں امن پر زور 

Jan 01, 2026 | 14:25:PM
بھارت  کیساتھ جوہری تنصیبات ،قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ، پاکستان کا یمن میں امن پر زور 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ترجمان وزارتِ خارجہ   طاہر حسین اندرابی نے  پاکستان کی اہم سفارتی سرگرمیوں اور علاقائی امور پر مؤقف واضح کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ مکمل ہو گیا ہے، جبکہ یمن کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی پاکستان نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن و استحکام کے لیے اپنے اصولی مؤقف کو دہرایا ہے۔

اسلام آبادمیں ترجمان دفترخارجہ طاہر حسین اندرابی نےہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران  بتایا کہ آج پاکستان اور بھارت نے 31 دسمبر 1988 کو طے پانے والے معاہدے کے تحت ایک دوسرے کو اپنی اپنی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرستیں فراہم کیں، معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو اپنی جوہری تنصیبات سے متعلق معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، اس سلسلے میں پاکستان کی فہرست آج وزارت خارجہ میں بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کی گئی، جبکہ بھارتی حکومت بھی نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو بھارتی جوہری تنصیبات کی فہرست فراہم کر رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں قید 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست ہائی کمیشن حکام کےحوالے کردی ہے، یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہے اور خطے میں اسٹریٹجک استحکام کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

بریفنگ میں یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے وہاں دوبارہ بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کے سب سے امیر یوٹیوبرز کی فہرست جاری، اربوں کی کمائی کرنے والے ٹاپ 10 سٹارز کون؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ملک میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان یمن کے کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتا ہے جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہوں، امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں یا یمن اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی سطح پر کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان یمن کے مسئلے کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو واحد مؤثر راستہ سمجھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ یمنی عوام اور علاقائی فریقین مل کر ایک جامع اور دیرپا حل کی جانب بڑھیں گے، جو نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کے استحکام کو یقینی بنائے گا۔

مزید پڑھیں:نیا سال۔۔۔بڑی خوشخبری،پاکستان مالا مال ہو گیا

ترجمان نے بتایا کہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے،اس حوالے سے سعودی عرب کے ولی عہد نے پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل سمیت مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور 2026 میں پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔

ترجمان کے مطابق اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک گفتگو بھی ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ نائب وزیراعظم نے سعودی قیادت کے لیے نئے سال کی نیک خواہشات کا اظہار کیا، جس کا شہزادہ فیصل بن فرحان نے پرتپاک جواب دیا۔

گفتگو کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ سعودی وزیر خارجہ نے بھی باہمی تعلقات کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ اسی تناظر میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ قیادت بھی رواں ہفتے قریبی رابطے میں رہی، متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران نے وزیراعظم پاکستان کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جس کے دوران وہ اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تھے، جس میں وزرا اور سینئر حکام شامل تھے۔

مزید پڑھیں:27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر پی ٹی آئی سینیٹر کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر

اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ترقی اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ترجمان کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سال بھر جاری رہنے والے اعلیٰ سطحی رابطوں کا تسلسل اور اختتام تھا۔

ترجمان نے کہا کہ اماراتی صدر کا دورہ دونوں ممالک کے گہرے تعلقات اور اہم شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد نہ صرف دوطرفہ شراکت داری کو فروغ دینا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنا بھی ہے۔

ترجمان کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور پاکستان کی قیادت اور عوام کی جانب سے تعزیت پیش کی،انہوں نے مرحومہ کی بنگلہ دیش کے عوام کی ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان میں ہمیشہ عزت اور احترام سے یاد رکھا جائے گا،سپیکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مرحومہ نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان برادرانہ تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ ڈھاکہ میں قیام کے دوران سپیکر قومی اسمبلی نے بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر، قانون کے مشیر جسٹس آصف نصراللہ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے قائم مقام چیئرمین سے بھی ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیں:عوام کیلئے  خوشی کی خبر،ٹریفک پولیس نے اہم اعلان کر دیا

ترجمان نے صومالیہ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے، انہوں نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے وفاقی جمہوریہ کے ایک نام نہاد خطے کو تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس اقدام کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان صومالیہ کے وفاقی جمہوریہ کی مکمل خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ملک میں پائیدار امن و استحکام کے لیے تمام کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے، اسی طرح پاکستان فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی کسی بھی کوشش کو یکسر مسترد کرتا ہے اور فلسطینیوں کی جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا، جس کا مقصد القدس شریف کو دارالحکومت بنا کر ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے معاملے پر الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، مصر، کویت، ایران، عراق، اردن، سعودی عرب، فلسطین، صومالیہ، سوڈان، یمن اور او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا، جس میں اسرائیل کے اقدام کو واضح طور پر مسترد کرنے سمیت اہم اصولی نکات پر زور دیا گیا۔