گرفتار، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش بارے بل سینیٹ سے منظور

Dec 01, 2025 | 18:30:PM
گرفتار، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش بارے بل سینیٹ سے منظور
کیپشن: سینیٹ اجلاس، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عثمان خان)سینیٹ میں گرفتار، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش بارے بل منظور کرلیاگیا جبکہ دیگرتمام بل متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کر دئیے۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا،پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ترمیم بل 2025 ایوان میں پیش  کیاگیا،بل سینیٹر انوشہ رحمان نے ایوان بالا میں پیش کیا۔

لیگل پریکٹشنر اینڈ بار کونسلز دوسرا ترمیمی بل 2025 بھی ایوان میں پیش کیاگیا،بل سینیٹر شہادت اعوان نے سینیٹ میں پیش کیا ۔پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ترمیمی بل 2025 بھی سینیٹ میں پیش کیاگیا،بل سینیٹر محمد عبدالقادر نے سینیٹ اجلاس میں پیش کیا ۔

یونیورسٹیوں میں مستحق افراد کیلئے خصوصی سیٹیں مختص کرنے کا بل بھی پیش کیا گیا،سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل سینیٹ اجلاس میں پیش کیا ۔چئیر مین سینیٹ نے حکومتی آرا سے تمام بل متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کر دئیے۔

گرفتار ، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش بل  سینیٹ سے متفقہ طور پر منظورہو گیا۔سینیٹر فاروق نائیک نے کہاکہ بل گرفتار ، نظربند اور زیرحراست افراد کو حقوق سے متعلق ہے ، گرفتار شخص کو گرفتاری کی تحریری وجوہات بتائی جائیں  ، اس کو وکلا کی مدد حاصل ہو  ،اس کو فیملی سے ملاقات کی اجازت اور دوائیاں مل سکیں  ، ابھی گرفتار افراد کو  دوائیوں اور گھر کے کھانے کیلئے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے  ، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پولیس افسران کو جرمانہ ہوگا ۔

پاکستان اینیمل سائنس کونسل بل 2023 سینیٹ سے  جوائنٹ سیشن کو ریفرکر دیاگیا،بل سینیٹ سے منظور کردہ جبکہ قومی اسمبلی سے 90 روز میں منظور نہیں ہو سکا تھا،بل سے متعلق تحریک رانا محمود الحسن اور کامران مرتضیٰ نے پیش کی ،چئیر مین سینیٹ نے بل منظوری کیلئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو ریفر کر دیا۔

سینیٹر کامل علی آغا نے پرائمری میں عربی کو لازمی مضمون قرار دینے  کی قرارداد پیش  کردی ،سینیٹر کامل علی آغا نے کہاکہ عربی زبان کی ترویج نظریہ پاکستان کا جزو ہے ، پاکستان کا مستقبل بھی عربی زبان سے منسلک ہے ، خلیجی ممالک میں ملازمتوں کیلئے بھی عربی زبان کا حصول ضروری ہے ۔

طارق فضل چودھری نے کہاکہ اسلامیات پہلے سے تعلیمی نصاب میں شامل ہے ، اسلامیات بارہویں کلاس تک پڑھائی جارہی ہے ، ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھانے کا ایکٹ بھی موجود ہے ، جس پر چیئرمین سینیٹ نے قرارداد ڈیفر کردی۔

سینیٹر طلحہ محمود نے بیروزگاری پر قابو پانے کی قرارداد سینیٹ میں پیش  کردی ،قرارداد متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپردکردی گئی۔

تین سو تیس پٹرول پمپس کا پی ایس او کا لوگو استعمال کرنے کے معاملے پر آڈٹ حکام نے کہاکہ مختلف اضلاع میں انتظامیہ نے تین سو تیس پٹرول پمپس کے لائسنسز منسوخ کئے، ان پٹرول پمپس سے تین ارب تین سو ملین کا جرمانہ وصول نہیں کیا گیا۔ 

پیٹرولیم  ڈویژن حکام نے کہاکہ یہ آڈٹ پیرا پی ایس او کے خلاف نہیں بن سکتا، ان غیر قانونی پٹرول پمپس کے خلاف ایف آئی آر کاٹ چکے ہیں ، ہمارے پاس کارروائی کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔

آڈٹ حکام نے کہاکہ یہ بنیادی طور پر اوگرا کی ذمہ داری ہے ،کمیٹی نے معاملہ اوگرا کے سپرد کردیا۔

سینیٹ اجلاس میں سال 2025 کے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کیلئے مناسب ریلیف پیکجز اور معاوضہ کی قرارداد پیش کی گئی،قرارداد سینیٹر طلحہ محمود نے پیش کی۔

وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب نے قرارداد پر جواب  دیتے ہوئے کہاکہ اس حوالے سے سینیٹر طلحہ محمود تفصیل شیئر کردیں، معزز سینیٹر میرے پاس آکر بیٹھ جائیں اور جن سیکٹر سے متعلق بات چیت کرنی ہے، سینیٹ نے طلحہ محمود کی قرارداد منظور کرلی۔

سینیٹ میں آئی ایم ایف کی جانب سے گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک اسسمنٹ ان پاکستان کے عنوان جاری کی گئی رپورٹ پر بحث کے لیے تحریک پیش

تحریک سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیش کی،سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ آئی ایم ایف نے اس رپورٹ میں زیادہ تر عدالتوں سے متعلق بات کی ہے، عدالتوں کا گراف تیزی سے گر رہا ہے۔ 

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جواب  دیتے ہوئے کہاکہ یہ ایک تکنیکی رپورٹ ہے،یہ رپورٹ 7 عناصر پر مشتمل ہے،رپورٹ کے لب لباب میں اداروں کی اصلاحات سے متعلق سفارشات ہیں،اس رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں کہ جس پر ہم کام نہ کررہے ہوں۔

وفاقی وزیر خزانہ کاکہناتھا کہ آئی ایم ایف کی طرف سے 15 سفارشات آئی ہیں،یہ سفارشات ہماری ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈا میں شامل ہے،بیس ممالک میں ایسی رپورٹس آئی ہیں،ہم ادارہ جاتی اصلاحات پر جارہے ہیں،ان کاکہناتھا کہ آئی ایم ایف رپورٹ پر اٹھائے گئے تمام اقدامات سے ایوان کو اعتماد میں کیا جائے گا،ٹیکنیکل وزارت میں ماہرین کو لایا جانا چاہئے،ملازمین کے معاوضے کو بھی دیکھا جانا چاہئے،احسن اقبال کی سربراہی میں سول سروسز ریفارمز کمیٹی میں یہ معاملہ رکھا جائے گا۔

محمد اورنگزیب نے کہاکہ جب بھی ہاؤس تیار ہو، چئیرمین ایف بی آر یہاں پر آکر آگاہی دیں گے،وزیراعظم پاکستان خود بھی ڈیجیٹلائزیشن پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں،ایوان جب کہے گا ہم پریزنٹیشن دینے کو تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین کی شامت، حکومت کا بڑا اقدام