یہاں بند عدالتیں اور بند فیصلے ہوتے ہیں، یہ ملک کیسے چلے گا،شاہد خاقان عباسی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)سربراہ عوام پاکستان پارٹی و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی قانون،انصاف اورعدالت نہیں ،ملک سے ناانصافیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ایک جماعت کی لیڈر شپ کو 10،10اوربیس بیس سال کی سزائیں دے دی گئیں، یہاں بند عدالتیں اور بند فیصلے ہوتے ہیں، یہ ملک کیسے چلے گا اس کا آج کسی کو کوئی احساس نہیں۔
اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت یہاں ملک کے شہریوں کو ان کا حق دینے کو تیار نہیں، آج کیوں اس ملک کے نوجوان بندوق اٹھاتے ہیں؟ ۔فیصلہ ہوا تھا کہ فاٹا کے علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے فنڈز دیے جائیں گے، آج سات سال بعد بھی کچھ نہیں بدلا، سابقہ فاٹا کو نہ نظام ملا نہ ترقی نہ ہی بنیادی حقوق ملے ہیں، آج قبائلی عوام کہہ رہے ہیں پرانا نظام بہتر تھا۔آئین و قانون سے ہی ملکی مسائل حل کئےجا سکتے ہیں، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے، ملک میں ناانصافیوں کو ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کو وہ رقم بھی نہیں ملی جوسابق فاٹا کا حصہ ہواکرتی تھی، ملک میں کوئی قانون،انصاف اورعدالت نہیں ہے، یہاں کوئی بھی جو مرضی کرلے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ ملک کے عوام آئے دن غریب سے غریب ہوتے جارہے ہیں، یہاں اشرافیہ امیر سے امیر ہوتی جارہی ہے، چینی کی ایکسپورٹ شروع ہوتے ہی قیمتیں بڑھ گئیں، کسان کو ایک پیسے کا فائدہ نہیں۔دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے یہ دیکھتی ہے کہ اپوزیشن لیڈرز کو کیسے سزائیں دی جا رہی ہیں، اگر اپوزیشن کو سزا دینی تھی تو ایسا عدالتی ماحول ہوتا جہاں انصاف ہوتا ہوا نظر آتا ،بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو نہ تاریخ تسلیم کرتی ہے نہ قانون ،عوام روز بروز غریب سے غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے جا رہے ہیں، چینی کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ہوا فائدہ عوام کو نہیں بلکہ مالدار مل مالکان کو گیا ،کسان کو پیسے کا فائدہ نہیں ملا عوام کی جیب سے پیسہ نکال کر صنعتکاروں کو دے دیا گیا،طاقتور سمجھتے ہیں قانون صرف ان کے مفادات کا آلہ ہے ،یہ ملک قانون کی حکمرانی کے بغیر نہیں چل سکتا ۔
یہ بھی پڑھیں؛گلگت بلتستان: گلیشیئر پھٹنے سے باپ بیٹا گہری کھائی میں جاگرے