سابق کرکٹر اظہر الدین بھارتی کابینہ میں شامل

Oct 31, 2025 | 15:02:PM
سابق کرکٹر اظہر الدین بھارتی کابینہ میں شامل
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)سابق بھارتی کرکٹ کپتان اور کانگریس رہنما محمد اظہر الدین نے تلنگانہ کابینہ میں وزیر کے عہدے پر حلف اٹھایا ہے۔

 ان کی شمولیت کے ساتھ ہی کانگریس کو پہلی مرتبہ کابینہ میں مسلم نمائندگی حاصل ہوئی ہے جوکہ ایک طویل عرصے سے التوا میں تھی۔

 بی جے پی نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے انتخابی حکمت عملی قرار دیا ہے۔

تلنگانہ کی اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر بی جے پی نے اظہر الدین کی کابینہ میں شمولیت کو ایک انتخابی چال قرار دیا ہے۔

 ان کے مطابق یہ فیصلہ 11 نومبر کو جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، جہاں تقریباً 30 فیصد ووٹرز مسلمان ہیں۔

بی جے پی  نےالزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت نے اپنے سیاسی فائدے کیلئے اس وقت اس وزیر کی شمولیت کی ہے، جب کہ وہ  اسی حلقے سے انتخابی ٹکٹ کی درخواست دے چکے ہیں۔

 بی جے پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس اقدام سے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور یہ حکومتی اختیارات کا غلط استعمال ہے۔

 تلنگانہ کانگریس کے صدر مہیش گاؤڈ نے اس اقدام کو اقلیتی برادری کے لیے سماجی انصاف کی تکمیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ اقلیتی نمائندگی کو اہمیت دی ہے۔

 گزشتہ حکومتوں میں بھی اقلیتی طبقے کے افراد کو کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ ایک طویل عرصے سے جاری عدم توازن کو درست کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خود بی جے پی نے راجستھان میں ایک انتخابی امیدوار کو وزیر بنایا تھا، جو بعد میں کانگریس کے امیدوار سے شکست کھا گیا تھا۔

 اظہر الدین کی کابینہ میں شمولیت پر ایک اور پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ وہ ابھی تک تلنگانہ اسمبلی یا کونسل کے رکن نہیں ہیں، جو وزیر بننے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

 انہیں گورنر کے کوٹے سے قانون ساز کونسل میں نامزد کیا گیا ہے، لیکن گورنر کی جانب سے اس کی منظوری ابھی تک نہیں دی گئی ہے۔

 انہیں چھ ماہ کے اندر ایم ایل سی کے طور پر شامل ہونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے وزیر کے عہدے پر برقرار رہ سکیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اظہر الدین کی شمولیت تلنگانہ کے سیاسی منظرنامے میں نئے امکانات کی نشاندہی کرتی ہے۔

 خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاست میں ضمنی انتخابات اور سیاسی چیلنجز موجود ہیں۔