کوئٹہ: مسلم لیگ ن کے پارلیمنٹرینز کی پریس کانفرنس، چمن دھماکے اور امن و امان پر اظہار تشویش

May 31, 2026 | 19:29:PM
کوئٹہ: مسلم لیگ ن کے پارلیمنٹرینز کی پریس کانفرنس، چمن دھماکے اور امن و امان پر اظہار تشویش
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 ںیوز ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے چمن پھاٹک دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صوبے امن و امان کے قیام کیلئے سنجیدہ توجہ دینے پر زور دیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن)  کے پارلیمنٹرینز نے گورنر بلوچستان کی موجودگی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چمن پھاٹک دھماکے سمیت صوبے میں بدامنی کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔

پارلیمانی لیڈر میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ حالیہ واقعات کے باعث اس بار عید سادگی سے منائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چمن جلسے میں بعض عناصر کی جانب سے متنازع اور غیر قانونی بیانات دیے گئے، جن میں بارڈر سے متعلق اشتعال انگیز باتیں اور ذاتی لشکر بنانے جیسے اعلانات شامل تھے، جو آئین و قانون کے منافی ہیں۔

میر سلیم کھوسہ نے واضح کیا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق دہری شہریت کی اجازت نہیں اور کسی کو بھی ذاتی لشکر بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاک افغان اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کے لیے مؤثر میکنزم بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام خصوصاً پشتونوں کی پاکستانیت پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، اور بلوچ و پشتون اقوام کے درمیان تفریق پیدا کرنا افسوسناک ہے۔

پریس کانفرنس میں میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی کارکردگی بہتر ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ مکمل تعاون جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبے کے حالات جلد بہتر ہوں گے۔

انہوں نے بجٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ حلقوں اور پارلیمانی پارٹیوں کو برابری کی بنیاد پر فنڈز کی تقسیم ہونی چاہیے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، پریس کانفرنس میں میر شعیب نوشیروانی، جمال شاہ کاکڑ، محمد خان لہڑی، میر عاصم کرد گیلو، راحیلہ حمید درانی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ 24 مئی کو کوئٹہ کے علاقے چمن پھاٹک کے قریب جو دھماکہ ہوا، وہ بلوچستان کی حالیہ شدید سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایک بڑا واقعہ تھا،24 مئی 2026 کی صبح کو کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ایک شٹل ٹرین کو نشانہ بنایا گیا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ٹرین کوئٹہ کینٹ سے روانہ ہو کر مرکزی ریلوے اسٹیشن کی طرف جا رہی تھی۔

حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دھماکہ خودکش طرز کے بارودی مواد سے بھری گاڑی (SVB-IED) کے ذریعے کیا گیا، جو ٹرین سے ٹکرا کر یا قریب آ کر دھماکے کا باعث بنی، کم از کم 24 افراد جاں بحق ہوئے، 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے، بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 30 سے زائد بھی بتائی گئی ہے۔

حملے کی نوعیت:
دھماکہ ایک ٹارگٹڈ حملہ تھا جس کا ہدف سیکیورٹی اہلکار اور ان کے اہل خانہ بتائے گئے، حملے سے ٹرین کی بوگیاں الٹ گئیں اور آگ بھی لگ گئی،آس پاس کی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

ذمہ داری:
بعض عالمی اور مقامی رپورٹس کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری ایک کالعدم مسلح تنظیم نے قبول کی، جس کا بلوچستان میں پہلے بھی اسی نوعیت کے حملوں سے تعلق بتایا جاتا ہے۔

حکومتی ردعمل:
وزیراعظم اور اعلیٰ حکام نے واقعے کی شدید مذمت کی، علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، زخمیوں کو کوئٹہ کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
 
 یہ بھی پڑھیں :دشمن کےوعدوں پر بھروسہ نہیں:ایرانی سپیکر